Aaj.tv Logo

نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا پردہ چاک کردیا اور کہا کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت نے 1989 سے اب تک 96 ہزار کشمیریوں کو شہید کیا، 5 اگست 2019کے بعد سے 9 لاکھ فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہیں، معصوم کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کیلئے جعلی مقابلوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، کشمیری محلوں، شہری مراکز اور دیہاتوں کو تباہ اور جلا کر اجتماعی سزائیں دی جا رہی ہیں۔

منیر اکرم نے کہا کہ مسلح تصادم میں شہریوں کی حفاظت عالمی انسانی قانون کا بنیادی ستون ہے، جب فوجی کارروائی کا مقصد شہریوں کو دبانا ہے تو کیسے تحفظ دیا جائے؟عام شہری ہمیشہ سے جنگ کا سب سے بڑا شکار رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی "ماں” بھارت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنا چاہتاہے، سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے جرائم کانوٹس لے اورجنگی جرائم و بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارتی اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔

منیر اکرم کا مزیدکہنا تھا کہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے مسلسل دہشت گردانہ حملے ہیں، ان دہشت گرد حملوں کی مالی معاونت، سرپرستی اور حمایت کی جاتی ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے ٹی ٹی پی اور جے یو اے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔