Aaj.tv Logo

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مغرب نے سنکیانگ کے مسلمانوں سے متعلق چین کے رویے پر تنقید کی لیکن کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش رہا۔

چین کے صحافیوں کے ساتھ خصوصی بات چیت میں وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین کو ایغوروں کے بارے میں پالیسیوں پر دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اںہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے سفیر معین الحق کو وہاں بھیجا اور انہوں نے مختلف زمینی حقائق کا پتہ لگایا۔

ان کا کہنا تھا کہ مغرب ایغور کی بات کرتا ہے لیکن کشمیر کی بات نہیں کرتا۔

وزیراعظم نے اس معاملے پر مغربی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے بدترین مظالم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ زمین میں نوے لاکھ لوگ کھلی جیل میں رہتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے چینی ترقیاتی ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جامع اقتصادی ترقی کے حصول اور اپنے لوگوں کو غربت سے نکالنے کے لیے چین کے ترقیاتی ماڈل پر عمل کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 700 ملین افراد کو غربت سے نکالا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری اس کارنامے کا احترام کرتی ہے کیونکہ انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔