Aaj News

جے یو آئی کی انصار الاسلام کیوں قائم کی گئی ہے؟

نومبر 2019 میں وفاقی حکومت کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام پر پابندی بھی عائد کی تھی۔
اپ ڈیٹ 18 مارچ 2022 12:22pm
جے یو آئی اس گروہ کو اپنی جماعت میں ایک "ونگ" کہنے کے بجائے تنظیم کہتی ہے
جے یو آئی اس گروہ کو اپنی جماعت میں ایک "ونگ" کہنے کے بجائے تنظیم کہتی ہے
" انصار الاسلام " نامی تنظیم میں درجہ بندی کے اعتبار سے ایک مرکزی رہنما ہوتا،
" انصار الاسلام " نامی تنظیم میں درجہ بندی کے اعتبار سے ایک مرکزی رہنما ہوتا،
تنطیم کا لباس خاکی رنگ کی شلوار قمیض ہے
تنطیم کا لباس خاکی رنگ کی شلوار قمیض ہے

ملکی خبروں میں گردش کرنے والے والا نام " انصار الاسلام " ہے، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کیوں اور قائم کی گئی تھی؟

انصار الاسلام نامی گروہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی ایک معمولی فورس ہے، جس کو قائم کرنے کا مقصد پارٹی کی قیادت کو تحفظ کرنا ہے۔

تاہم جے یو آئی (ف) کی کی ٹاس فورس انصار الاسلام کا بنیادی ایجنڈا الیکشن اور ریلیوں کے دوران قیادت کی حفاظت کرنا ہے۔

انصار الاسلام کا تنظیمی ڈھانچہ اور شمولیت کا طریقہ

دریں اثنا جے یو آئی اس گروہ کو اپنی جماعت میں ایک "ونگ" کہنے کے بجائے تنظیم کہتی ہے کیونکہ تنظیم میں درجہ بندی ہوتی ہے۔

" انصار الاسلام " نامی تنظیم میں درجہ بندی کے اعتبار سے ایک مرکزی رہنما ہوتا، جس کے بعد صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر رہنما ہوتا ہے۔

اس تنطیم میں شمولیت کیلئے ایک خاص تربیت حاصل کرنے کے بعد ہی شامل ہوا جاسکتا ہے جبکہ اس تنطیم کا لباس خاکی رنگ کی شلوار قمیض ہے، جو صرف اس کے رضا کار پہنتے ہیں۔

انصار الاسلام کا انٹیلی جنس وِنگ

تاہم (جے یو آئی) کی اس تنظیم میں ایک انٹیلی جنس وِنگ بھی قائم کیاہے ،جس کا نام حضرت حذیفہ بن یمان کے نام پر رکھا گیا ہے جو حضورﷺ کے اصحاب میں سے تھے۔

انٹیلی جنس وِنگ کے کارکن مشکوک افراد یا جلسے اور ریلیوں کے ارد گرد ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں جبکہ یہ پولیس پر بھی نگرانی رکھتے ہیں تاکہ وہ ان کی تنظیم کے کسی رہنما کو گرفتار نہ کر سکیں۔

اس کے ساتھ ہی ہنگامی صورتحال میں انٹیلی جنس وِنگ رہنماؤں کے لیے محفوظ طریقے سے باہر نکلنے کا منصوبہ بنانے کے ساتھ ان کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔

انصار الاسلام کے رضاکاروں کی تعیناتی کیسے ہوتی ہے

انصار الاسلام کے رضاکاروں کی کثیر تعداد پارکنگ لاٹ، داخلی راستوں اور اسٹیج کے آس پاس تعینات کی جاتی ہے۔

تنظیم کے رضاکار کسی بھی ریلی، جلسے یا احتجاج سے پہلے سیکیورٹی پلان مرتب کرنے کے لیے مقامی پولیس و انتظامیہ سے بھی ملتے ہیں۔

خیال رہے کہ ان کی تعیناتی کے لیئے تنظیم کی جانب سے خاکی وردی میں ملبوس اپنے رضاکاروں کو ان کے نام اور ڈیوٹی کی جگہ کے ساتھ ڈیوٹی کارڈ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔

انصار الاسلام کے رضاکار ہاتھ نہیں ملا سکتے

جمعیت علمائے اسلام کے پیروکاروں کو اعلیٰ قیادت سے ہاتھ ملانے کی اجازت ہے لیکن انصار الاسلام کے رضاکاروں کو ایسا نہ کرنے کی ہدایت ہے۔

واضح رہے کہ نومبر 2019 میں وفاقی حکومت کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام پر پابندی بھی عائد کی تھی۔

Fazal ur Rehman

JUIF

Molana Fazal ur Rehman

Comments are closed on this story.

مقبول ترین