Aaj.tv Logo

کراچی :پاک سرزمن پارٹی کے سربراہ مصطفی نے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی، تحریک انصاف دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی۔

پاکستان ہاوس کراچی پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت دھاندلی سے بنائی گئی، الکشن میں تحریک انصاف کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سے بات نہ کرنے سے آئینی بحران پیدا ہوگیا، عمران خان کو بچاتے ادارے بدنام ہوئے،اس وجہ سے انہوں نے آئین کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔

مصطفی کمال نے کہا کہ عمران خان نے امر بالمعروف و ریاست مدینہ کو مذاق بنا کر دکھ دیا ،اپنی مرضی سے تشریح کرنے پر کوئی علما ءبولنے والا نہیں۔

سربراہ پی ایس پی مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ عمران خان نے نیب سے جعلی مقدمات بنوائے، اپنے کیسز معاف اور دوسروں کیخلاف کیسز بنائے گئے یہ ہے ان کی ریاست مدینہ، آج حساب کھل رہاہے تو کہتے ہیں میرا تحفہ میری مرضی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عمران خان کو ساڑھے 3سال تک اصلاحات کا موقع ملا، لوکل گورنمنٹ کا بہتر سسٹم رائج ہوتا لاکھوں عوامی نمائندے منتخب ہوتے۔

سربراہ پی ایس پی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے آخری گھنٹے تک وزارتوں کے مزے لئے، کراچی کے مسائل کا حل صرف کراچی کی قومی جماعت ہے۔

پی ایس پی سربراہ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف 3 سال پہلے بٹھر جاتے تو حکومت ختم ہوجاتی،علما خان کو بزدار کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے نوٹس جاری ہوئے،جو شخص اپنے دوستوں کا نہیں ہوا وہ کسی اور کا کیسے ہوگا۔

پریس کانفرنس مںر مصطفی کمال کے ہمراہ انسز قائمخانی اور دیگر رہنما ءبھی موجود تھے۔