Aaj.tv Logo

انحراف چھوٹی بات نہیں انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے : چیف جسٹس

05 جولائ 2022
<p>چیف جسٹس نے برطانوی وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کا حوالہ بھی دیا۔
فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل</p>

چیف جسٹس نے برطانوی وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کا حوالہ بھی دیا۔ فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جب آپ کی جماعت نے اجلاس سے بائیکاٹ کیا تو آپ نے شرکت کیوں کی؟ سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں انحراف کو پہلے ہی کینسر قرار دے چکی ہے، انحراف چھوٹی بات نہیں یہ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے ۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی کے منحرف اراکین کی الیکشن کمیشن کیخلاف اپیلوں پرسماعت کی۔

منحرف اراکین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے کوئی ہدایات جاری نہیں کی تھیں، وزیراعلیٰ کیلئے پی ٹی آئی کے امیدوارپرویز الٰہی نےانتخاب کے روزاجلاس سےبائیکاٹ کیا تھا۔

چیف جسٹس عمرعطا ءبندیال نے کہا کہ انحراف چھوٹی بات نہیں یہ انسان کے ضمیرکا معاملہ ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں انحراف کوپہلے ہی کینسر قراردے چکی ہے، جب آپ کی جماعت نے اجلاس سے بائیکاٹ کیا توآپ نے شرکت کیوں کی؟۔

جسٹس محمد علی مظہرکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ممبرہوتے ہوئے آپ نےمسلم لیگ (ن)کوووٹ دیئے۔

سپریم کورٹ نے منحرف اراکین کوپارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے کے نکتے پر تیاری کرکے آنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

بعدازاں پنجاب میں پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سےڈی سیٹ عظمی کاردارروسٹرم پرآگئیں اور کہا کہ مجھے پی ٹی آئی نے پارٹی سے نکالا میرا کیس انحراف سے ہٹ کر ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مخصوص نشستیں سیاسی جماعت کی اسمبلی میں ٹوٹل نشستوں کےتناسب سے ہوتی ہیں، دیکھنا ہو گا کہ پی ٹی آئی نے پارٹی سے ہی نکال دیا تو آپ ممبر کیسے تھیں؟۔

عظمی کاردار نے کہا کہ پی ٹی آئی کیلئے خون پسینہ لگا کرمحنت کی،آج بھی پارٹی کی رکن ہوں، اندرونی سازشوں کی وجہ سے پارٹی سے بے دخل کیا لیکن پھر بھی پارلیمنٹیرین رہی، مجھے آرٹیکل 63 اے نے تحفظ دیا کہ مجھ پرانحراف ثابت نہیں ہوا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کونہیں معلوم تھا کہ آپ کوپارٹی سے نکال دیا گیا ہے؟جس پر عظمی کاردار نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے تمام دستاویزات موجود تھے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ واضح کرچکی کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمارنہیں ہوگا، سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے کہ اس کارکن اس سے وفاداری کرے۔

چیف جسٹس پاکستان نے برطانوی وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کومعلوم ہے بورس جانسن کوشکست کہاں ہوئی؟ بورس جانسن کیخلاف کوئی تحریک عدم اعتماد نہیں آئی تھی، بورس جانسن کوان کی پارلیمنٹری پارٹی نےفارغ کیا تھایہ جمہوریت کی نشوونما ہے۔

عظمی کاردار نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کسی کی ہمت نہیں کہ پارٹی لیڈرکیخلاف بات کرسکے، ایک سال کہتے رہے بزدارکوسپورٹ کرنا ہے بات نہیں بنی تودوسری طرف چلےگئے۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جماعت کا سربراہ اورپارلیمانی پارٹی لیڈرالگ الگ ہوتے ہیں، جماعت کے سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی لیڈرکی ہدایات پرعمل کرنا ہوتاہے، منحرف اراکین کا معاملہ کیس ٹوکیس دیکھیں گے۔

وکیل منحرف اراکین نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی لیڈرکو آزادانہ فیصلے لینے ہوتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ کا معاملہ بھی ہے۔

منحرف اراکین کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگرپنجاب میں خواتین کی 5 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن ہوگیا تو ہمارا کیس غیر مؤثر ہوجائے گا، کیس اہم نوعیت کا ہے تمام نکات پرتیاری کرکے آئیں۔