Aaj News

عدالت کا شہباز گل کو پیر تک پمز منتقل کرنے کا حکم

بغاوت کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پیر تک مسترد کردی گئی۔
اپ ڈیٹ 19 اگست 2022 02:47pm
<p>شہباز گِل کو وہیل چیئر پر بٹھا کر کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دی نیوز انٹرنیشنل</p>

شہباز گِل کو وہیل چیئر پر بٹھا کر کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دی نیوز انٹرنیشنل

عدالت نے شہباز گل کا دوبارہ میڈیکل کرانے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اداروں کےخلاف بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں گرفتار شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کو پیر تک پمزمنتقل کرنے اور ان کا دوبارہ میڈیکل کرانے کا حکم دے دیا۔

ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کی استدعا معطل کردی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ شہبازگِل کا جسمانی ریمانڈابھی شروع ہی نہیں ہوا، جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کی استدعا مسترد کرتا ہوں۔

جج راجہ فرخ علی خان نے حکم دیا کہ شہباز گل کی سانس کی تکلیف کا ایک بار پھر چیک اپ کیا جائے۔

وکیل نے کہا کہ شہباز گِل کو سی آئی اے دفتر لے گئے ہیں ان سے پوچھا جائے کیوں لے کر گئے، جس پر جج نے جواب دیا کہ ان چیزوں کو چھوڑ دیں، میں نے آرڈر کر دیا ہے۔

عدالت نے شہباز گِل کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گِل کی صحت ٹھیک نہیں ،ان کواسپتال منتقل کیا جائے اور تفصیلی چیک اپ کرایا جائے، اگر شہباز گل کی حالت درست ہوتی تو اسے ایمبولینس میں کیوں لایا جاتا۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شہباز گل کو پیر تک پمز منتقل کرنے اور دوبارہ میڈیکل کرانے کا بھی حکم دے دیا۔

عدالت نے شہباز گل کی پیر تک دوبارہ میڈیکل رپورٹ بھی جمع کرانے کا حکم دیا۔

اس سے قبل جب شہباز گِل کو عدالت لایا گیا تو انہیں ایمبولینس سے اتار کر وہیل چیئر پر بٹھا کر کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس موقع پر شہباز گل کا ماسک اترا ہوا تھا، وہ کھانس رہے تھے اور روتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میرا ماسک چھین لیا گیا ہے۔

کسی بھی قسم کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کچہری کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما شہباز گل فٹ قرار، پمز سے ڈسچارج کرنے کا فیصلہ

جج کے سامنے پیش کیے جانے سے قبل شہباز گِل کے وکیل فیصل چوہدری عدالت میں موجود تھے، انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین کا بیٹا آیا ہے، وہ ایئرپورٹ گئے ہیں۔

جج نے ریمارکس دیئے کہ آج جمعہ ہے ،کوشش کریں گے جلدی سماعت ہوجائے،جس پر وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ باہرپولیس ایسے کھڑی ہےجیسے کوئی بڑا دہشت گرد پیش ہورہا ہے، شہباز گل بیمار ہے۔

جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا شعیب شاہین آدھے گھنٹے تک پہنچ جائیں گے،جواب میں فیصل چوہدری نے بتایا کہ جی شعیب شاہین 9 بج کر15منٹ تک پہنچ جائیں گے ۔

جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ فیصل چوہدری آپ کتنے بجے تک پیش جائیں گے،جس پر فیصل چوہدری نے جواب دیا کہ سوا 9 بجے سے ایک منٹ اوپرنہیں ہوگا۔

جج نے نائب کورٹ کو ہدایت کی کہ پولیس کو آگاہ کر دیں ملزم کو سوا 9 بجے پیش کیا جائے گا، اس کے بعد ابتدائی طور پر جسمانی ریمانڈ سے متعلق سماعت میں سوا 9 بجے تک وقفہ کر دیا گیا۔

فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل کے پھیپھڑے متاثر ہیں اور ان کو سانس لینے میں دشواری ہے، ابھی شہباز گل سے مل کرآرہا ہوں ان کو بہت زیادہ مشکل ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس ضد کررہی ہےکہ سیڑھیاں خودچڑھ کراوپرآئیں،وہ سیڑھیاں چڑھ کراوپر نہیں آسکتے، جس پر عدالت نے کہا ملزم کو تو اوپر لانا پڑے گا۔

عدالت نے پولیس کو شہبازگل کو اٹھا کر اوپر لانے کی ہدایت کی، جس کے بعد شہبازگل کو وہیل چیئر پر بیٹھا کر ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

آکسیجن سلنڈر بھی عدالت میں پہنچا دیا گیا، پولیس نے عدالت سے شہباز گِل کے مزید 8 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے پولیس سے سوال کیا کہ آپ شہباز گِل کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں ؟

عدالت نے استفسار کیا کیا پہلے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا آپ 8 دن کی درخواست کیوں لےآئے؟ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا یا نہیں؟ کیا پولیس 2 روز میں تفتیش کرسکی یا نہیں؟۔

عدالت نے سوال کیا کیا پولیس نیا ریمانڈ مانگ رہی ہے یا پہلےکی توسیع چاہتی ہے، کیا تکنیکی طور پر پہلا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ شروع ہی نہیں ہوا؟

فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل کی بیماری آپ نے دیکھ لی اس کا جینوئن معاملہ ہے، میڈیکل رپورٹ سے بھی لگ رہاہے ٹارچر کیا گیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس نےجو پرچہ ریمانڈ دیا اس کےمطابق بھی پولیس مان رہی ہے ریمانڈ مکمل ہوچکا ، شہباز گل کا اگر فزیکل ریمانڈ دیا گیا تومیں سمجھتا ہوں اس کے لیے لائف تھریٹ ہے۔

ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کا گزشتہ روز کا آرڈر وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں پڑھا اور کہا پراسیکیوشن نے پیر تک شورٹی دی تھی کہ شہباز گل کووہ اسپتال میں رکھیں گے، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ جو ایڈیشنل سیشن جج کا آرڈر تھا میں نے اس کو دیکھنا ہے۔

شہبازگل کے وکیل نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کی۔

جس کے بعد پولیس پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پردلائل دیتے ہوئے کہا قانون میں نہیں لکھا کہ بیمارشخص کا ریمانڈ نہیں لیاجاسکتا، کسی بھی ملزم کی جان قیمتی ہوتی ہے، تفتیشی مکمل خیال رکھتا ہے۔

رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں جیل کےڈاکٹربھی موجودتھے، جیل ڈاکٹرنےعدالت کوبتایاجب ملزم لایاگیاتوکوئی مسئلہ نہ تھا،رپورٹ نارمل تھی، جس پر وکیل فیصل چوہدری نے کہا جیل ڈاکٹرنےایسی کوئی بات نہیں کی۔

رضوان عباسی نے وکیل فیصل چوہدری سے مکالمے میں کہا مجھے بات کر لینےدیں،ایسا نہ کریں، جوڈیشل مجسٹریٹ کا کہنا تھا کہ آپ بات جاری رکھیں، آپ جواب بعد میں دے دیجئے گا۔

پولیس پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر نے بتایا شہبازگل کو مسئلہ اس وقت ہواجب عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر دینے کا فیصلہ کیا۔

دلائل کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان نے پولیس کی درخواست پر شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اس سے قبل پمز کے میڈیکل بورڈ نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو فِٹ قرار دیتے ہوئے انہیں ڈسچارج کرنے کی سفارش کی تھی۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق شہباز گل کی صحت تسلی بخش ہے، ان کے تمام ٹیسٹ کلیئر ہیں، کورونا نیگیٹو اور خون کےٹیسٹ بھی نارمل ہیں، شہباز گل دمے کے مریض لیکن اس وقت شدید علامات نہیں ہیں۔

شہباز گل کو ڈسچارج کرنے کے فیصلے سے اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کو آگاہ کردیا گیا تھا۔

Comments are closed on this story.