Aaj News

بھارت: طالبات کی غیر اخلاقی ویڈیوز لیک کرنے پر احتجاج، ملزمہ گرفتار

تقریباً 60 لڑکیوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز لیک , ردعمل میں 6 طالبات کی خودکشی کی کوشش کا دعویٰ
اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2022 09:49am
<p>اسکرین گریب</p>

اسکرین گریب

بھارتی پنجاب کی پولیس نے اتوار کو چندی گڑھ یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو مبینہ طور پر ہاسٹل کی لڑکیوں کی قابل اعتراض ویڈیوز وائرل کرنے پر گرفتار کیا ہے۔

یہ کارروائی ہاسٹل میں رہائش پذیر لڑکیوں کے دعوے کے بعد کی گئی ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی ویڈیوز وائرل کی گئی ہیں۔

تاہم، بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیک ہونے والا کلپ صرف ایک ہے جو ملزمہ نے شملہ میں اپنے بوائے فرینڈ کو بھیجا تھا۔

ہفتہ کی رات موہالی میں چندی گڑھ یونیورسٹی کیمپس میں اس معاملے پر شدیداحتجاج کا آغاز ہوا۔

احتجاج کرنے والی طالبات نے الزام عائدکیا کہ ملزمہ نے اپنے موبائل سے طالبات کے نہانے کی ویڈیو بنائیں،جس کے بعد خبریں آئیں کہ کچھ متاثرہ لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی ہے۔

جیسے ہی لیک ہونے والی ویڈیوز پر تنازع کھڑا ہوا، پولیس حرکت میں آگئی اور لڑکی کو گرفتار کرلیا۔

تاہم، پولیس نے احتجاجی طلباء کی طرف سے خودکشی کی کوشش کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے خودکشی کی کوشش یا ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

موہالی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) وویک سونی کا کہنا ہے کہ، “میڈیکل ریکارڈ کے مطابق، خودکشی کی کوئی کوشش یا موت واقع نہیں ہوئی ہے۔ ایک طالبہ جسے ایمبولینس میں لے جایا گیا تھا، وہ پریشانی کا شکار تھی، اور ہماری ٹیم اس کے ساتھ رابطے میں ہے۔”

ملزمہ کو حراست میں لینے کے فوراً بعد پنجاب کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر گرمیت سنگھ میت ہیر نے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔

ایک طالبہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ملزمہ نے موبائل فون واش روم میں رکھا تھا اور اور اس سے ویڈیوز بنائی تھیں۔

طالبہ نے بتایا کہ، “ہاسٹل میں رہائش پزیر طالبات کی 50 سے 60 ویڈیوز ہیں جو ملزمہ نے اپنے بوائے فرینڈ کو بھیجیں۔ جب ہم نے اس واقعے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے ویڈیوز بنانے کا اعتراف کرتے ہوئےکہا کہ بعد میں انہیں حذف کر دیا تھا۔”

ہاسٹل میں مقیم ایک لڑکی نے یہ بھی بتایا کہ کالج انتظامیہ دعووں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک منزل پر 20 کمرے ہیں اور ایک کمرے میں چار لڑکیاں رہتی ہیں۔

تاہم، پولیس نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا کہ ایم ایم ایس کلپس آن لائن لیک ہوئے تھے او اپنے اس دعوے پر قائم ہے کہ ملزمہ کی جانب سے صرف ایک ویڈیو بنائی گئی ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی اور لڑکی کی ایسی کوئی ویڈیو ہمارے سامنے پیش نہیں کی گئی۔

ملزمان کے موبائل فون قبضے میں لے لیے گئے ہیں جنہیں فرانزک جانچ کے لیے بھیجا جائے گا۔

چندی گڑھ یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں پرو چانسلر آر ایس باوا کا کہنا تھا کہ، “میڈیا میں جو افواہ گردش کر رہی ہے کہ طالبات کی 60 قابل اعتراض ویڈیوزملی ہیں، وہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے دوران کسی بھی طالبہ کی ایسی کوئی ویڈیو نہیں ملی جو قابل اعتراض ہو، سوائے اس لڑکی کی ذاتی ویڈیو کے جسے اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ شیئر کیا تھا۔”

واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ “چنڈی گڑھ یونیورسٹی کے واقعے کے بارے میں سن کر دکھ ہوا، ہماری بیٹیاں ہمارا فخر ہیں۔ ہم نے واقعے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ جو بھی قصوروار ہوگا اسے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں۔”

پنجاب کے اسکولی تعلیم کے وزیر ہرجوت سنگھ بینس نے یونیورسٹی کے طلباء سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، جن کی عام آدمی پارٹی پنجاب پر حکومت کرتی ہے، نے اس واقعے کو “شرمناک” قرار دیا اور صبر کی اپیل کی۔

پنجاب اسٹیٹ ویمن کمیشن نے بھی معاملے کا نوٹس لیا۔ کمیشن کی چیئرپرسن منیشا گلاٹی نے کہا، “تفتیش جاری ہے۔ میں یہاں تمام طالبات کے والدین کو یقین دلاتا ہوں کہ ملزمان کو بخشا نہیں جائے گا۔”

ملزمہ کے خلاف آئی ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جو اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

protest

Leak Video

Suicide

Chandigarh University

Comments are closed on this story.