Aaj News

’ٹریفک حادثات میں اموات دہشتگردی کے واقعات سے زیادہ ہیں‘

عدالت کی سرکاری وکیل کوجواب جمع کرانے کی آخری مہلت دے دی
شائع 02 دسمبر 2022 01:58pm
<p>تصویر/ پی پی آئی</p>

تصویر/ پی پی آئی

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں ہیوی ٹریفک پر پابندی کے باجود حکم پرعمل درآمد پرنہ ہونے ٹریفک پولیس پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک حادثات میں اموات دہشت گردی کے واقعات سے زیادہ ہیں۔

عدالت میں ہیوی ٹریفک پر پابندی سے متعلق درخواست پرسماعت ہوئی حکم پرعمل درآمد پرنہ ہونےعدالت نے ٹریفک پولیس پربرہمی کا اظہارکیا۔

جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس دیے کہ 15 سال سےعدالتی احکامات پرعمل نہیں ہورہا ہے ٹریفک حادثات میں اموات دہشتگردی کے واقعات سے زیادہ ہیں۔

جسٹس ندیم نے کہا کہ ہیوی ٹریفک کے شہرمیں داخلہ، پابندی کے اوقات پرعمل نہیں کیا جا رہا ہے، اگر ایسا ہے تو پھر آئی جی سندھ کو بلوا لیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ گڈزٹرانسپورٹ اورہیوی ٹریفک پورا دن شہرمیں چلتی ہے لگتا ہے اس شہر میں پولیس ہے ہی نہیں۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالتی احکامات پرعملدرآمد کیا جا رہا ہے جس پر جسٹس ندیم اختر بولےعدالتی احکامات پرعملدرآمد نہیں ہورہا ہے، عدالت میں موجود تمام افراد جانتے ہیں احکامات پرعمل نہیں ہورہا ہے۔

جسٹس ندیم اختر نے کہا کہ احکامات پرعملدرآمد کا دعوی، آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، جس کے بعد ایس ایس پی ٹریفک نے کہا کہ عدالتی احکامات پرعملدرآمد کرائیں گے۔

عدالت نے سرکاری وکیل کو جواب جمع کرانے کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا کہ ہیوی ٹریفک کا شہر میں داخلہ، میکنیزم پیش کریں۔ آئندہ سماعت پرڈی آئی جی ٹریفک طلب کو کرلیا اور سماعت 8 دسمبرتک ملتوی کردی۔

Sindh High Court

Comments are closed on this story.

مقبول ترین