Aaj News

منگل, مئ 28, 2024  
19 Dhul-Qadah 1445  

قرآن کی تعلیم دینے پر خلیجی ریاست میں جرمانہ عائد

اس سے قبل بھی اماراتی حکومت نے مذہبی کتابوں کی تقسیم سے متعلق قانون پاس کیا تھا
شائع 13 اپريل 2024 05:42pm

متحدہ عرب امارات میں جہاں رمضان کے موقع پر علمائے کرام کو عیدی سمیت الاؤنس دیے گئے وہیں نجی طور پر چلنے والے مدرسے اور قرآن پڑھانے والے اساتذہ سے متعلق واضح وارننگ دے دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پرائیوٹ قرآن کی کلاسز سے متعلق سخت قوانین کے ساتھ ساتھ اب جرمانہ بھی عائد کرنا شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پرائیوٹ قرآن کی کلاسز کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر 50 ہزار درہم جرمانے سمیت قید کی سزا بھی دینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

واضح رہے اماراتی حکومت کی جانب سے مخصوص پالیسیز کے تحت پروائیوٹ سینٹرز کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس سے قبل 2017 میں فیڈرل نیشنل کاؤنسل کی جانب سے قانون پاس کیا گیا تھا، جس کے تحت بنا لائسنس یا بنا اجازت کے چلنے والے قرآن حفظ کرنے کے اداروں کو بند کردیا جائے گا۔

جبکہ اس کے بعد ایک اور قانون سب کی توجہ حاصل کر گیا تھا، جس میں لائسنس کے بنا مساجد میں حفظ قرآن، مذہبی تعلیمات، مذہبی کتابوں تقسیم، سمیت زکوٰۃ جمع کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

تاہم اس سب میں حکومت کی جانب سے حفظ قرآن کے پرائیوٹ سینٹرز کو اجازت بھی دی گئی ہے، لیکن اس حوالے سے واضح گائڈلائنز بھی دی گئی ہیں۔

گائڈلائنز کے مطابق پرائیوٹ سینٹرز چلانے کا اہل وہی شخص ہوگا جس کی عمر 21 سال سے کم نہ ہوئے، درخواستگزار متحدہ عرب امارات کا شہری ہو، جبکہ شہری کے پاس اچھا برتاؤ کا سرٹیفیکٹ ہونا لازمی ہے، جبکہ درخواستگزار اس سے قبل کسی بھی طرح سے سزا کا مرتکب نہ ہوا ہو۔

UAE

fine

Quran memorisation