ریکارڈ فروخت: چین عالمی آٹو انڈسٹری میں جاپان کو پیچھے چھوڑنے کو تیار

رپورٹ کے مطابق چینی کار ساز اداروں کی عالمی فروخت میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 17 فیصد اضافہ متوقع ہے
شائع 02 جنوری 2026 03:10pm

عالمی آٹو موبائل انڈسٹری میں چینی کار ساز کمپنیاں پہلی بار دنیا بھر میں نئی گاڑیوں کی فروخت میں سب سے آگے آنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ اعزاز رکھنے والا جاپان دوسرے نمبر پر چلا جائے گا۔

نکی ایشیا کی رپورٹ کے مطابق چینی آٹو موبائل مینوفیکچررز عالمی سطح پر نئی گاڑیوں کی فروخت میں نمبر ون پوزیشن حاصل کرنے کے راستے پر گامزن ہیں۔

یہ اندازہ مختلف کار ساز کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ سالانہ فروخت کے اعداد و شمار اور ایس اینڈ پی گلوبل موبیلٹی کے سال 2025 میں جنوری سے نومبر تک کے ڈیٹا کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، جس میں کمرشل گاڑیاں، ملکی فروخت اور برآمدات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چینی کار ساز اداروں کی عالمی فروخت میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 17 فیصد اضافہ متوقع ہے، جس کے بعد اس کی مجموعی فروخت 27 ملین گاڑیوں تک پہنچ سکتی ہے۔ چین 2023 میں دنیا کا سب سے بڑا کار برآمد کنندہ بن چکا ہے اور اب مجموعی عالمی فروخت کے لحاظ سے بھی مارکیٹ لیڈر بننے کے قریب ہے۔

چینی کار ساز اداروں کی مجموعی فروخت میں تقریباً 70 فیصد حصہ خود چین کی مقامی مارکیٹ کا ہے، جہاں الیکٹرک گاڑیوں اور پلگ اِن ہائبرڈز کو بھرپور فروغ دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں اب مسافر کاروں کی فروخت کا تقریباً 60 فیصد حصہ بن چکی ہیں۔

اس کے برعکس، جاپانی کار ساز اداروں کی عالمی فروخت تقریباً 25 ملین گاڑیوں کے لگ بھگ مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ ماضی میں امریکا اور جاپان عالمی قیادت کے بڑے حریف رہے ہیں، جبکہ 2018 میں جاپان اپنی بلند ترین سطح پر تقریباً 30 ملین گاڑیوں کی فروخت تک پہنچ گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جاپان کو چین پر حاصل برتری، جو 2022 میں تقریباً 80 لاکھ گاڑیوں تک تھی، محض تین برسوں میں تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

دوسری جانب چین میں پیداواری صلاحیت سے زائد پیداوار اور قیمتوں کے شدید مقابلے کا سامنا ہے۔ چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کے مطابق بی وائی ڈی سمیت نمایاں الیکٹرک گاڑی ساز اداروں نے قیمتوں میں کمی کا سہارا لیا ہے۔ جنوری سے نومبر کے دوران نئی توانائی سے چلنے والی مسافر گاڑیوں کی سب سے زیادہ فروخت 1 لاکھ سے 1 لاکھ 50 ہزار یوان کی قیمت کے دائرے میں رہی، جو مجموعی فروخت کا 23 فیصد بنتی ہے۔

ملکی سطح پر بڑھتے مقابلے کے باعث چینی کار ساز ادارے جارحانہ قیمتوں کے ذریعے برآمدات پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں اور اضافی الیکٹرک گاڑیاں بیرون ملک مارکیٹوں میں بھیجی جا رہی ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیا کے خطے آسیان، جہاں طویل عرصے سے جاپانی گاڑیوں کی بالادستی رہی ہے، وہاں چینی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سال آسیان میں چینی گاڑیوں کی فروخت 49 فیصد بڑھ کر تقریباً 5 لاکھ یونٹس تک پہنچ سکتی ہے۔

ٹویوٹا موٹرز کے تھائی یونٹ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق تھائی لینڈ کو مارکیٹ میں تبدیلی کی نمایاں مثال قرار دیا گیا ہے، جہاں گزشتہ برس نومبر تک جاپانی گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر 69 فیصد رہا، جو تقریباً پانچ سال قبل 90 فیصد کے قریب تھا۔

یورپ میں بھی چینی گاڑیوں کی فروخت میں 7 فیصد اضافے کے ساتھ یہ تعداد تقریباً 23 لاکھ یونٹس تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اگرچہ یورپی یونین نے چین میں تیار کردہ الیکٹرک گاڑیوں پر اضافی درآمدی محصولات عائد کیے ہیں، تاہم چینی کار ساز اداروں نے اس کے جواب میں پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ کیا ہے، جو ان پابندیوں کے دائرے میں شامل نہیں۔

ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بھی چینی گاڑیوں کی فروخت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں افریقہ میں 32 فیصد اضافے کے ساتھ فروخت 2 لاکھ 30 ہزار یونٹس اور لاطینی امریکا میں 33 فیصد اضافے کے ساتھ 5 لاکھ 40 ہزار یونٹس تک پہنچنے کا امکان ہے۔

china

Japan

sales

top 2025 global

auto brands