یمن کے علیحدگی پسندوں نے ’آزاد ریاست‘ اور نئے آئین کا اعلان کردیا
یمن میں متحرک علیحدگی پسند گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) نے جنوبی یمن کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے نیا آئین بھی پیش کردیا ہے۔ ایس ٹی سی نے یمن کے دیگر گروہوں سے بھی اس فیصلے کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یمن کی علیحدگی پسند تحریک نے جمعے کے روز جنوبی حصے میں ایک آزاد ریاست کے قیام اور آئین کا اعلان کرتے ہوئے دیگر تمام سیاسی اور عسکری دھڑوں سے اس اقدام کو قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ عیدروس الزبیدی نے ویڈیو بیان میں کہا کہ ان کے گروپ کی جانب سے جاری کردہ آئین دو برس کے لیے نافذ العمل ہوگا، جس کے بعد جنوبی عوام کے لیے ’حقِ خود ارادیت کے استعمال‘ پر ریفرنڈم کرایا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان دو برسوں کے دوران شمالی اور جنوبی یمن کی ’متعلقہ جماعتوں‘ کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں تاکہ ایسے راستے اور طریقۂ کار طے کیے جا سکیں جو جنوبی یمن کے عوام کے حقوق کی ضمانت دیں۔
ایس ٹی سی کے سربراہ نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اگر دیگر دھڑے ان کی اپیل سے اتفاق نہیں کرتے یا عسکری کارروائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ان کے پاس تمام آپشنز کھلے رہیں گے۔
ایس ٹی سی کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حمایت یافتہ فورسز نے حضرموت صوبے کے اہم مقامات کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایس ٹی سی کی جانب سے جاری کردہ 30 نکاتی آئین میں ’ریاستِ جنوبی عرب‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا دائرہ کار اسی خطے پر مشتمل ہے جو 1967 سے 1990 تک عوامی جمہوریہ یمن کے نام سے ایک آزاد جنوبی ریاست تھا۔
متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ قرار دی جانے والی سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے اس اعلان کو جنوبی یمن کی آزادی کا باضابطہ اعلان قرار دیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا ہے کہ عملی طور پر اس فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا یا یہ محض علامتی اقدام ہے۔
اس بیان کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل، ضبط اور مذاکرات کو ترجیح دینے کی اپیل کی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ یمن کے تمام گروہوں کو ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ملکی سلامتی و استحکام کے تحفظ کے لیے مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایس ٹی سی نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز سے جنوبی یمن کے دو صوبوں کا کنٹرول چھین لیا تھا اور جنوبی شہر عدن میں واقع صدارتی محل پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔
جمعے کے روز سعودی فضائیہ نے یمن کے جنوبی صوبے حضرموت میں ایس ٹی سی کے زیرِ کنٹرول کیمپوں اور اُن فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جن پر سعودی حمایت یافتہ جنگجو قبضے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایس ٹی سی نے اس اقدام کو سعودی عرب کی جانب سے براہِ راست عسکری مداخلت قرار دیا ہے۔
اس پیشرفت کے بعد سعودی حکومت کی جانب سے بھی ہفتے کے روز جاری بیان میں یمن کے معاملے پر ریاض میں مذاکرات کے انعقاد کا عندیہ دیا گیا ہے۔
یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے جنوبی یمن کے مسئلے کے حل کے لیے سعودی عرب سے مذاکرات کی میزبانی کی درخواست کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس عمل سے تمام جنوبی دھڑے ایک پلیٹ فارم پر آ سکیں گے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ صدارتی قیادت کونسل کی جانب سے ریاض میں کانفرنس منعقد کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ بات چیت کے ذریعے تمام دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کیا جاسکے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب تمام جنوبی دھڑوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے ایک جامع وژن تیار کرنے کے لیے کانفرنس میں فعال طور پر شرکت کریں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سعودی عرب نے یمنی بندرگاہ پر اسلحہ کی ایک ایسی کھیپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جس میں مبینہ طور پر علیحدگی پسندوں کے لیے متحدہ عرب امارات سے ہتھیار پہنچائے گئے تھے۔
متحدہ عرب امارات نے ہفتے کے روز یہ اعلان بھی کیا کہ اس نے یمن سے اپنی تمام افواج مکمل طور پر واپس بلوا لی ہیں۔
خیال رہے کہ یمن کئی برسوں سے عملی طور پر تقسیم ہے، جہاں شمالی علاقوں پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کا کنٹرول ہے جبکہ جنوبی حصوں میں یو اے ای کا حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروہ سرگرم ہے جبکہ بقیہ حصے پر سعودی حمایت یافتہ گروہ کی حکومت قائم ہے۔
دوسری جانب یمن کے صوبے حضرموت میں جھڑپیں ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہیں۔ سعودی عرب کے حمایت یافتہ گورنر اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے علیحدگی پسندوں کے درمیان مختلف علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے، جس کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی ہے۔












