’امریکہ اور اسرائیل ایران میں رجیم چینج پر غور کر رہے ہیں‘: یروشلم پوسٹ کا دعویٰ

وینزویلا میں امریکی کارروائی نے اسرائیل کو حیران کردیا
شائع 06 جنوری 2026 01:21pm

اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران رجیم چینج کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے اسرائیلی اور امریکی حکام کے ایران کے بارے میں حساب کتاب بدل دیے ہیں اور اب وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ میں اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی سے قبل زیادہ تر اسرائیلی حکام یہ سمجھتے تھے کہ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے خلاف احتجاج اتنا وسیع نہیں کہ وہ حکومت کا خاتمہ کر سکے۔ تاہم مادورو کی گرفتاری کے بعد اس رائے میں تبدیلی آ گئی ہے اور اب ممکنہ مداخلت کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ کچھ محدود اور ٹارگیٹڈ کارروائیوں کے ذریعے احتجاجی تحریک کو ایران کی حکومت پر دباؤ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح اسرائیل سمجھتا ہے کہ مادورو کی گرفتاری ایران میں کارروائی کے لیے موقع فراہم کر سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر تسلیم کیا ہے کہ وہ ایرانی مظاہرین کو مدد فراہم کر رہی ہے اور ایران نے ایک ایجنٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی امریکی کارروائی کے بعد ایک خصوصی سیکیورٹی اجلاس منعقد کیا جبکہ سابق وزیر دفاع بینی گینٹز نے واضح طور پر کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کو ایرانی مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کرنی چاہیے تاکہ حکومت یا تو خود مختار ہو جائے یا ختم ہو جائے۔

جون میں امریکی اور اسرائیلی حکام صرف ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانے پر توجہ دے رہے تھے اور حکومت کی تبدیلی کے امکانات کے حق میں نہیں تھے، لیکن ایران میں احتجاج اور وینزویلا کی فوری کارروائی نے نئی حکمت عملی کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔

اس وقت کسی حتمی فیصلے کا امکان ظاہر نہیں ہوتا، خاص طور پر ٹرمپ ابھی مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کے حالات کو سنبھالنے کے طریقے پر غور کر رہے ہیں۔ ت

اہم پہلی بار یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ احتجاجی مظاہرین کی مدد کے لیے محدود مداخلت ممکن اور قابل عمل ہو سکتی ہے، جس میں بڑے پیمانے پر فوجی حملے کی ضرورت نہ ہو۔

Israel

Benjamin Netanyahu

Ayatollah Ali Khamenei

regime change

Iran Protest

President Donald Trump

iran inflation