ایلون مسک کو خلا میں 15 ہزار سیٹلائٹس لگانے کی اجازت، ماہرین تشویش کا شکار
ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے خلا میں 15 ہزار سیٹلائٹس لگانے کی اجازت مل گئی ہے جس پر خلائی ماہرین نے تشویش کا شکار اظہار کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے اسپیس ایکس کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسٹارلنک کے سیکنڈ جنریشن کے پندرہ ہزار سیٹلائٹس تعینات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
اس فیصلے سے ایلون مسک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس میں تیز رفتار براڈ بینڈ، وسیع فریکوئنسی بینڈز اور دنیا بھر میں ڈائریکٹ ٹو سیل سپورٹ ممکن ہو جائے گی۔
منظوری کے تحت موجودہ منظور شدہ سیٹلائٹس میں مجموعی طور پر 7 ہزار 500 نئے سیٹلائٹس شامل کیے جائیں گے۔ نئے سیٹلائٹس 10.7 سے 30 گیگا ہرٹز فریکوئنسی بینڈز میں کام کریں گے، اور 340 کلومیٹر تک کم مدار والے شیلز میں نصب ہوں گے۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ اسپیس ایکس کم از کم 50 فیصد سیٹلائٹس لانچ کرے اور دیگر آپریٹرز کے ساتھ رابطہ قائم رکھ کر سگنل مداخلت کم کرے۔
اس اقدام سے اسٹارلنک کو صدر ٹرمپ کے دور میں متعارف کرائے گئے 42.45 بلین امریکی ڈالر براڈ بینڈ ایکویٹی پروگرام میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ تاہم ایف سی سی نے 600 کلومیٹر سے زائد کے بلند مدار کے لیے منظوری مؤخر کر دی ہے۔
وہیں ماہرین نے خلائی ملبے کے بڑھتے خطرے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ سیٹلائٹس سورج کی روشنی منعکس کر کے آپٹیکل ٹیلیسکوپ کے مشاہدات میں خاص طور پر شام اور صبح کے وقت روشن دھبے پیدا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، اسٹارلنک کے سگنلز ریڈیائی لہروں میں خلل ڈال رہے ہیں، جس سے ہلکی کائناتی لہریں چھپ جاتی ہیں۔
اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ غیر فعال سیٹلائٹس کو تین سال کے اندر مدار سے ہٹا دیا جائے گا، جس سے خلائی ملبے کے خطرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدام امریکہ کی خلائی ٹیکنالوجی میں قیادت کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی شراکت داری کو بھی فروغ دے گا۔
















