چار سالہ سوتیلے بچے کا قتل، ملزمہ کی ضمانت منظور

وکیل کے مطابق ملزمہ کے خلاف نہ کوئی گواہ موجود ہے اور نہ کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب ہیں
شائع 13 جنوری 2026 12:18pm

سپریم کورٹ نے ننکانہ صاحب میں درج 4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کے مقدمے میں ملزمہ کی ضمانت منظور کر دی۔

ذرائع کے مطابق کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں عدالت نے مقدمے سے متعلق دلائل اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا۔


ذرائع کے مطابق ملزمہ مدعی مقدمہ کی دوسری اہلیہ ہے، جس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بچہ اسکول سے صحیح سلامت گھر واپس آیا تھا اور گھر میں لاش اس کی واپسی پر ملی۔

وکیل کے مطابق ملزمہ کے خلاف نہ کوئی گواہ موجود ہے اور نہ کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب ہیں۔ وکیل نے مزید کہا کہ بچہ پہلے بھی دمہ کا مریض تھا اور موت کی اصل وجہ کا تعین کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے میڈیکل رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ موت قدرتی نہیں تھی، تاہم جسٹس ملک شہزاد نے سوال اٹھایا کہ ”بچے کو ماں نے مارا کیسے پتہ چلے گا؟“ اور کہا کہ مقدمے کی کارروائی میں آدھے پہلو مدعی اور آدھے پہلو پولیس خراب کر رہی ہے۔

ملزمہ کے خلاف تھانہ ننکانہ صاحب میں قتل کے الزام کے تحت مقدمہ درج ہے۔ عدالت نے سماعت کے بعد دلائل اور شواہد کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ کو ضمانت دے دی۔

death

Islamabad High Court

murdered

accused bail

4 year old kid