پیوٹن نہیں زیلنسکی یوکرین امن معاہدے میں رکاوٹ ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پیوٹن نہیں زیلنسکی یوکرین امن معاہدے میں رکاوٹ ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ نہ کہ روس بلکہ یوکرین ممکنہ امن معاہدے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ مؤقف یورپی اتحادیوں کے بیانیے سے واضح طور پر مختلف ہے، جو مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ ماسکو کو یوکرین میں جنگ ختم کرنے میں کوئی سنجیدہ دلچسپی نہیں۔
بدھ کے روز اوول آفس میں دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین پر تقریباً چار سال سے جاری حملے کو سمیٹنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کے بقول یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی اس معاملے میں زیادہ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے روسی صدر کے حوالے سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ یوکرین نہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکی قیادت میں ہونے والے مذاکرات اب تک یورپ کے سب سے بڑے زمینی تنازع، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا ہے، کو حل کیوں نہیں کر سکے تو صدر ٹرمپ نے مختصر جواب میں زیلنسکی کا نام لیا۔
امریکی صدر نے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں اس ممکنہ دورۂ ماسکو کے بارے میں کوئی علم نہیں، جس کی رپورٹ اسی روز بلوم برگ نے دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر ماسکو جا سکتے ہیں۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر صدر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے تو انہوں نے کہا کہ میں ملاقات کروں گا، اگر وہ وہاں ہوئے۔ میں خود وہاں جا رہا ہوں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ وہ کیوں سمجھتے ہیں کہ صدر زیلنسکی مذاکرات میں پیچھے ہٹ رہے ہیں تو انہوں نے مزید وضاحت کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ بس، آپ جانتے ہیں، وہاں تک پہنچنے میں مشکل محسوس کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے یوکرینی صدر سے متعلق ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی ظاہر ہوئی۔ دونوں صدور کے تعلقات طویل عرصے سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، اگرچہ صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پہلے سال کے دوران ان کے باہمی روابط میں کچھ بہتری دیکھی گئی۔
صدر ٹرمپ ماضی میں کئی مواقع پر اپنے بعض اتحادیوں کے رہنماؤں کے مقابلے میں روسی صدر پیوٹن کی یقین دہانیوں کو زیادہ سنجیدگی سے لیتے دکھائی دیے ہیں، جس پر کیف، یورپی دارالحکومتوں اور امریکی قانون سازوں، بشمول کچھ ریپبلکن اراکین، کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔
دسمبر میں رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ صدر پیوٹن نے یوکرین کے مکمل کنٹرول اور سابق سوویت سلطنت کے زیرِ اثر یورپی علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے اپنے عزائم ترک نہیں کیے۔ تاہم اس وقت کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ نے اس رپورٹ کی تردید کی تھی۔
دوسری جانب، صدر زیلنسکی عوامی طور پر روس کو کسی بھی قسم کی علاقائی رعایت دینے کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین کے آئین کے تحت کیف کو کسی بھی زمین سے دستبردار ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں۔















