پاکستان اسٹیل ملز میں منظم چوری کا انکشاف
پاکستان اسٹیل ملز کراچی میں بڑے پیمانے پر منظم چوری کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار نے معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی سفارش کر دی۔
کراچی میں واقع پاکستان اسٹیل ملز کے بی زون، بن قاسم میں 24 دسمبر 2025 کو ہونے والی منظم چوری کی واردات سے متعلق اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں جن کے بعد وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے باضابطہ طور پر ایف آئی اے سے جامع تحقیقات کی سفارش کر دی ہے۔
سرکاری مراسلے کے مطابق چوری کی ان وارداتوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا اور ملز کا قیمتی انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا۔
اندرونی انکوائری اور پولیس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے بھاری مشینری، بجلی کی قیمتی کیبلز، صنعتی اسکریپ اور دیگر اہم سامان منظم انداز میں اسٹیل ملز کے احاطے سے نکالا۔ حیران کن طور پر یہ سامان گیٹ نمبر 5 سے بغیر کسی قانونی گیٹ پاس کے باہر لے جایا گیا، جس سے سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 22 وہیلر ٹرک سے تقریباً 36 ٹن چوری شدہ سامان برآمد کیا گیا۔ تھانہ بن قاسم میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ تفتیش کے دوران اسٹیل ملز کی سیکیورٹی اور ڈیفینس سیکیورٹی فورس کے بعض اہلکاروں کی غفلت اور ممکنہ ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے۔
پولیس نے سجاد حسین خان اور نثار احمد پر چوری میں سہولت کاری کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ملزمان کاشف غفور اور چوہدری اکرم پر عدالت میں گمراہ کن بیانات جمع کرانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ ان بیانات کے باعث ملزمان کو ضمانت مل گئی جس سے استغاثہ کا کیس کمزور پڑ گیا۔
وزارت صنعت و پیداوار کے سیکشن آفیسر شاہد علی خان نے ڈی جی ایف آئی اے کو ارسال کیے گئے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ منظم جرم اور سرکاری املاک کی چوری کا معاملہ ہے جو ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے تمام ملوث افراد کے خلاف جامع تحقیقات کی جائیں۔ مراسلے میں اسکریپ ڈیلرز اور دیگر سہولت کاروں کے کردار کی چھان بین کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ مراسلہ سیکریٹری داخلہ کو بھی ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ قومی اثاثوں کے تحفظ اور مستقبل میں ایسی وارداتوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا سکیں۔














