گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کا آٹھ یورپی ممالک پر مزید ٹیرف لگانے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک امریکا کو گرین لینڈ خریدنے کی اجازت نہیں دی جاتی، یورپی اتحادی ممالک پر فروری سے اضافی درآمدی ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق، صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی اتحادیوں کے ساتھ جاری تنازع کو مزید بڑھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا آٹھ یورپی ممالک کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف نافذ کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یکم فروری سے 10 فیصد اضافی درآمدی ٹیکس نافذ ہوگا، جو ان ممالک کی مصنوعات پر لاگو ہوگا جو پہلے ہی امریکی ٹیرف کی زد میں ہیں۔
متاثرہ ممالک میں ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، فن لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، یہ اقدام گرین لینڈ کے مستقبل پر جاری اختلافات کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کے زیر انتظام ایک وسیع آرکٹک جزیرہ ہے، اپنی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث امریکا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے کئی برسوں سے ڈنمارک اور یورپی یونین کے ممالک کو بغیر کسی معاوضے کے رعایتیں دی ہیں اور ان پر ٹیرف عائد نہیں کیے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ڈنمارک اس کا جواب دے۔ ان کے بقول، گرین لینڈ کا معاملہ عالمی امن سے جڑا ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین اور روس گرین لینڈ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ڈنمارک اس صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صرف امریکا ہی گرین لینڈ اور خطے کی مؤثر حفاظت کر سکتا ہے، کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف امریکا بلکہ عالمی سلامتی سے بھی وابستہ ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ڈنمارک سمیت آٹھ یورپی ممالک نے حالیہ عرصے میں گرین لینڈ کے دورے کیے جن کے مقاصد واضح نہیں، اور ان سرگرمیوں نے صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جو عالمی امن اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسی وجہ سے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر گرین لینڈ کی خریداری کے حوالے سے پیش رفت نہ ہوئی تو یکم جون سے ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق، امریکا گزشتہ 150 برس سے گرین لینڈ خریدنے کی کوشش کر رہا ہے اور کئی امریکی صدور یہ کوشش کر چکے ہیں، تاہم ڈنمارک کی جانب سے ہمیشہ انکار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جدید دور کے دفاعی نظام، بالخصوص ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی منصوبے کے تناظر میں گرین لینڈ کا حصول اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس معاملے پر ڈنمارک اور دیگر متعلقہ ممالک سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ان کے بقول، گرین لینڈ کے بغیر عالمی سلامتی کے اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔













