نوبیل انعام نہ ملنے کے بعد خود کو صرف امن کا پابند نہیں سمجھتا: صدر ٹرمپ
نوبیل انعام نہ ملا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب امن کے ہی خلاف ہوگئے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ 8 جنگیں رکوانے کے باوجود مجھے نوبیل انعام نہیں دیا گیا، نوبیل امن انعام نہ ملنے کے بعد وہ خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں سمجھتے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیراعظم یوناس گاہر اسٹورے کو لکھے گئے خط میں کہا کہ چونکہ انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا، اس لیے اب وہ صرف امن کے بارے میں سوچنے کی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے، اگرچہ امن ان کی ترجیح رہے گا تاہم اب وہ اس بات پر بھی غور کریں گے کہ امریکا کے لیے کیا درست اور بہتر ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ خط ناروے کے وزیراعظم یوناس گاہر اسٹورے اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کی جانب سے بھیجے گئے ایک مختصر پیغام کے جواب میں تھا، جس میں انہوں نے یورپی اتحادیوں پر امریکی ٹیرف عائد کرنے اور گرین لینڈ کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور امریکی صدر سے ٹیلی فونک رابطے کی درخواست کی تھی۔
امریکی صدر نے اپنے خط واضح کیا کہ 8 جنگیں رکوانے کے باوجود آپ کے ملک نے مجھے نوبیل نہیں دیا، اب مجھ پر کوئی بار نہیں کہ بس امن کا سوچوں، اب میں وہی کروں گا جو امریکا کے لیے اچھا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے خط میں گرین لینڈ پر مکمل امریکی کنٹرول کے مطالبے کو بھی دہرایا اور کہا کہ عالمی سلامتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکا کو گرین لینڈ پر مکمل اختیار حاصل نہ ہو۔
انہوں نے ڈنمارک پر بھی تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ وہ گرین لینڈ کو روس یا چین سے کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے جب کہ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ پر ڈنمارک کے ملکیتی حق کے واضح شواہد موجود نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو پر بھی زور دیا کہ وہ امریکا کے لیے عملی اقدامات کرے اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے نیٹو کے لیے کسی بھی دوسرے رہنما سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔
دوسری جانب ناروے کے وزیراعظم نے جواب میں کہا کہ وہ متعدد بار صدر ٹرمپ کو یہ واضح کر چکے ہیں کہ نوبیل امن انعام ناروے کی حکومت نہیں بلکہ ایک آزاد نوبیل کمیٹی دیتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس نوبیل امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کو دیا گیا تھا، جنہوں نے حال ہی میں وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا سونے کا تمغہ صدر ٹرمپ کو دیا تاہم نوبیل کمیٹی کے مطابق انعام منتقل یا واپس نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی گرین لینڈ خریدنے کے خواہاں رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے یورپی ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
















