بلوچستان میں برف باری: پاک فوج ریلوے ٹریکس اور مسافر ٹرینوں کی سیکیورٹی پر مامور

جعفر ایکسپریس اور بولان ایکسپریس کے مسافروں کی حفاظت کے لیے جوان برفباری میں بھی مسلسل ڈیوٹی دے رہے ہیں
شائع 26 جنوری 2026 10:03pm

بلوچستان میں شدید برف باری اور مشکل حالات کے باوجود پاک فوج ریلوے ٹریکس اور مسافر ٹرینوں کی سیکیورٹی پر مامور ہے، دہشت گردی کے خدشات کے درمیان بھی جوان اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

بلوچستان میں شدید برف باری اور مشکل حالات کے باوجود پاک فوج کے جوان ریلوے ٹریکس کی نگرانی پر مامور ہیں۔

پاک فوج کے جوان شدید موسمی آزمائشوں اور دہشت گردی کے خطرات، دونوں محاذوں پر بیک وقت عزم و حوصلے کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔

جعفر ایکسپریس اور بولان ایکسپریس کے مسافروں کی حفاظت کے لیے پاک فوج کے جوان برفباری میں بھی مسلسل اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔

پاک فوج کے جوان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ریلوے لائنوں اور مسافر ٹرینوں کی حفاظت کر رہے ہیں تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

سخت موسم اور کٹھن حالات کے باوجود ریلوے لائنوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جارہا اور شدید برفباری میں بھی مسافر ٹرینوں اور ریلوے ٹریکس کی حفاظت کرنے والے پاک فوج کے جوان قوم کا حقیقی فخر ہیں۔

بلوچستان میں بارشوں، برف باری کے باعث سردی میں اضافہ

دوسری جانب بلوچستان میں بارشوں اور برف باری کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہونے سے نظامِ زندگی متاثر ہوگیا، چھتیں گرنے کے واقعات میں ایک شخص جاں اور 4 افراد زخمی ہوگئے۔

ایران سے آنے والے طاقتور مغربی ہواؤں کے نئے سلسلے کے باعث بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

مسلسل بارش اور برفباری کے باعث صوبے کے شمالی اور بالائی علاقوں میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں جب کہ متعدد رابطہ سڑکوں پر آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شدید برفباری کے باعث قلات میں تقریباً 5 انچ جب کہ کوئٹہ میں 0.5 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے سبب مختلف علاقوں میں پھسلن برقرار ہے۔

زیارت میں درجہ حرارت منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو صوبے کا سرد ترین علاقہ قرار پایا ہے، بارشوں اور برفباری کے باعث مختلف حادثات بھی پیش آئے۔

کوئٹہ میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق جب کہ 2 افراد زخمی ہوگئے۔ اسی طرح ضلع دکی میں دکان کی چھت گرنے سے دکاندار سمیت 4 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کوئٹہ، مستونگ، قلات، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ، زیارت اور ژوب میں ہلکی سے درمیانی برفباری کا سلسلہ جاری ہے جب کہ گوادر، جیوانی، پسنی، اورماڑہ، تربت، پنجگور، خضدار، چاغی اور خاران میں بارش ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق قلات میں سب سے زیادہ 34 ملی میٹر، زیارت میں 17 اور دالبندین میں 15 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، برف باری کے باعث بلوچستان کو خیبر پختونخوا سے ملانے والی این-50 شاہراہ پر کئی مقامات پر برف جمنے سے ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔ کوئٹہ چمن شاہراہ پر کوژک ٹاپ جب کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر لکپاس کے مقام پر گاڑیوں کی روانی سست روی کا شکار ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان کو سندھ سے ملانے والی شاہراہ پر کولپور اور دشت کے علاقوں میں شدید پھسلن کے باعث مسافروں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ این ایچ اے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں بھاری مشینری کے ذریعے برف ہٹانے اور نمک پاشی کے عمل میں مصروف ہیں۔

حکام کے مطابق تمام بڑی شاہراہیں کھلی ہیں تاہم شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران جنوبی بلوچستان میں تیز بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے جب کہ کوئٹہ، زیارت، قلات، چمن، پشین اور گردونواح میں کل بھی برف باری جاری رہنے کا امکان ہے۔