علاج کا نیا انداز، اب گھوڑے کریں گے جسم اور ذہن کی شفایابی
دبئی کی تیز رفتار اور مصروف زندگی کے شور سے دور، شہر کے کنارے ایک نیا مرکز کرسٹلائن اِکوائن قائم کیا گیا ہے۔ یہ دبئی کا پہلا ایسا ادارہ ہے جہاں گھوڑے انسانی ذہن اور جسمانی توازن کی بحالی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں آنے والے افراد خاموشی، یوگا، سانس کی مشق اور گھوڑوں کی موجودگی کے ذریعے راحت و سکون محسوس کر تے ہیں۔
کرسٹلائن اِکوائن کا بنیادی تصور یہ ہے کہ گھوڑے انسان کی اندرونی کیفیت کو آئینہ دکھانے والی فطری مخلوق ہیں۔ ان کی موجودگی انسان کے اعصابی نظام کو پرسکون کرتی ہے، دباؤ کم کرتی ہے اور جذباتی و ذہنی شفا کے عمل کو قدرتی طور پر متحرک کرتی ہے۔
یہ جگہ شہر کے شور سے دور انسان اور گھوڑوں کے درمیان ایک خالص، غیر مشروط اور غیر نمائشی تعلق قائم کر کے سکون اور شفا کا احساس دلاتی ہے۔
خلیج ٹائمز کے مطابق یہ سینٹر دبئی کا پہلا الگ نوعیت کا ذہنی اور جسمانی ویلنیس سینٹرہے جو گھوڑوں کو سکون اور شفا کے ساتھی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ منفرد تصور جے ایس آر ایکویسٹرین سینٹر کے احاطے میں قائم کیا گیا ہے۔ جہاں گھوڑے آزادانہ گھومتے ہیں، کسی شیڈول کے پابند نہیں۔ وہ خود فیصلہ کرتے ہیں کہ کب قریب آنا ہے اور کب فاصلے سے مشاہدہ کرنا ہے۔ یہی آزادی اس تجربے کی روح ہے۔

اس محفوظ اور پرسکون سینٹر کی بانی کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی جوائے ڈیزمنڈ ہیں، جن کا سفر ایک بے حد دباؤ والی کارپوریٹ زندگی سے شروع ہوا اور پھرذاتی تجربات اور گھوڑوں کے ساتھ لندن میں فلاحی ادارے ”اسٹرینتھ اینڈ لرننگ تھرو ہارسز“ میں رضاکارانہ کام کے ذریعے شفا اور آگہی کی طرف مڑ گیا۔
گھوڑوں کے ذریعے تھراپی کے تجربات نے انہیں یہ سمجھایا کہ گھوڑے انسان کے جذبات، خوف اور تناؤ کو بغیر کسی فیصلے کے محسوس اور منعکس کرتے ہیں۔
وہاں انہوں نے ایسے مناظر دیکھے جو کسی کتاب میں درج نہیں ہوتے۔ خاموش بچے جو گھوڑے کے پاس آ کر مسکرا اٹھتے تھے۔ وہ افراد جنہوں نے کبھی تحفظ محسوس نہیں کیا تھا، گھوڑوں کے درمیان سکون پا لیتے تھے۔ حتیٰ کہ قیدی، جو برسوں اپنے احساسات چھپائے رکھتے تھے، ایک گھوڑے کی موجودگی میں خود کو سمٹتا ہوا محسوس کرتے تھے۔ ڈیزمنڈ کے لیے یہ محض مشاہدہ نہیں بلکہ ایک داخلی بیداری (Awareness) تھی۔
وہ یہ سمجھنے لگیں کہ گھوڑے انسان کو اس کی باتوں سے نہیں بلکہ اس کی کیفیت سے پہچانتے ہیں۔ ان کے لیے نہ ماضی اہم ہے نہ شناخت۔ وہ صرف انرجی کو پڑھتے ہیں۔ یہی احساس انہیں اس خیال تک لے آیا کہ گھوڑے شفا کے خاموش مگر طاقتور ساتھی ہو سکتے ہیں۔
دبئی منتقلی کے بعد، جے ایس آر ایکویسٹرین سینٹر میں ایک پرانی اور غیر استعمال شدہ عمارت نے اِس خواب کو شکل دی۔ جہاں دوسروں کو شکستہ دیواریں دکھائی دیتی تھیں، وہاں انہیں ایک ایسا خلا دکھائی دیا جو خاموشی، روشنی اور توانائی سے بھرا جا سکتا تھا۔
انہوں نے خود اس جگہ کی مرمت اور تیاری کی، دیواریں ہٹا کر، قدرتی روشنی کو جگہ دے کر، اور ایک ایسا ماحول تخلیق کیا جو مصنوعی آرائش سے آزاد ہو۔ یہاں شفا کو کسی کمرے میں بند نہیں کیا گیا، بلکہ فطرت، زمین اور جانوروں کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا گیا۔
یہاں ہونے والے سیشنز کسی روایتی تھراپی سے مختلف ہیں۔ یوگا، سانس کی مشقیں، ساؤنڈ ہیلنگ، مراقبہ اور جسمانی آگہی کی سرگرمیاں گھوڑوں کی آزاد موجودگی میں انجام دی جاتی ہیں۔ گھوڑے کبھی قریب آ جاتے ہیں، کبھی خاموشی سے لیٹ جاتے ہیں، اور کبھی دور کھڑے ہو کر صرف ”موجود“ رہتے ہیں۔ ان کی یہی موجودگی انسانی اعصابی نظام کو آہستہ آہستہ سکون کی حالت میں لے آتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گھوڑوں کے دل کا برقی دائرہ انسان کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ انسان لاشعوری طور پر ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ سانس گہری ہو جاتی ہے، دل کی رفتار کم ہوتی ہے اور جسم تناؤ چھوڑنے لگتا ہے۔ اس عمل کو ”کو-ریگولیشن“ کہا جاتا ہے، جو کرسٹلائن اِکوائن سینٹر کے فلسفے کی بنیاد ہے۔
یہاں آنے والے افراد مختلف کیفیتوں کے ساتھ آتے ہیں۔ کوئی ذہنی دباؤ، کوئی اضطراب، اور کوئی محض خود سے دوبارہ جڑنے کی خواہش لے کر۔ کچھ افراد گھوڑوں سے خوف بھی محسوس کرتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہی خوف اعتماد میں بدل جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں گھوڑے قابو میں نہیں کیے جاتے، بلکہ احترام کے ساتھ موجود رہتے ہیں۔
کرسٹلائن اِکوائن مستقبل میں مختلف معالجین، اساتذہ اور شفا سے جڑے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرے گا،، تاکہ یہ جگہ صرف ایک مرکز نہ رہے بلکہ ایک تحریک بنے۔
”کرسٹلائن اِکوائن“ ویلنیس سینٹر کی بانی جوائے ڈیزمنڈ کا ماننا ہے کہ انسان اور گھوڑوں کا رشتہ نیا نہیں۔ یہ ہزاروں سال پرانا ہے، جب گھوڑے صرف سواری نہیں بلکہ ساتھی، محافظ اور شفا کے آئینہ دار تھے۔
















