ٹرمپ کا ایران پر حملے کا اختیار خطرے میں
امریکی کانگریس میں اگلے ہفتے اس بات پر ووٹنگ کا امکان ہے کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قانون سازوں کی منظوری کے بغیر ایران پر فوجی کارروائی کا اختیار دیا جائے یا نہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوج ایران پر حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے اور فوج کو بیرون ملک بھیجنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے پاس، البتہ قومی سلامتی کے محدود مقاصد کے لیے صدر محدود کارروائی کر سکتے ہیں۔
تاہم، حالیہ دنوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا صدر کو ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کا حق حاصل ہے؟ یا اس کے لیے کانگریس کی واضح منظوری ضروری ہے؟
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، امریکی فوج تیاری کر رہی ہے کہ اگر صدر حکم دیں تو ایران کے خلاف کئی ہفتوں تک کارروائیاں کی جا سکیں۔
اس صورتحال نے کانگریس کے اندر تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں کچھ ریپبلکن اراکین بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر صدر کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سینیٹ میں ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین اور کینٹکی کے ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے ایک قرارداد پیش کی ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کو اس وقت تک روکنا ہے جب تک کانگریس باقاعدہ جنگ کی منظوری نہ دے دے۔
سینیٹر ٹم کین نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے کچھ ساتھی جنگ کی حمایت کرتے ہیں تو انہیں کھل کر اس کے حق میں ووٹ دینا چاہیے اور اپنے ووٹرز کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے، نہ کہ خاموشی اختیار کریں۔
اُن کے ایک معاون کے مطابق ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ سینیٹ اس قرارداد پر کب غور کرے گی۔
ایوان نمائندگان میں بھی اسی نوعیت کی ایک قرارداد لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
کینٹکی سے ریپبلکن رکن تھامس میسی اور کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹ رکن رو کھنہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اس معاملے پر ووٹنگ کرانے کی کوشش کریں گے۔
رو کھنہ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کا نوے فیصد امکان ہے، لیکن کانگریس کی منظوری کے بغیر ایسا نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں معمولی برتری حاصل ہے اور ماضی میں وہ ایسی قراردادوں کو روک چکی ہے۔
ریپبلکن رہنماوں کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں صدر کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔












