پاکستان کے بیرونی قرض میں اضافہ اور بھاری سود، اصل معاملہ کیا ہے؟

وزارت خزانہ نے پاکستان کے بیرونی قرضوں اور سود پر وضاحت جاری کردی
شائع 23 فروری 2026 09:44am

وزارتِ خزانہ نے ملک کے بیرونی قرضوں اور ان پر ادا کیے جانے والے سود کے حوالے سے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی قیاس آرائیوں اور خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے اصل حقائق سامنے رکھ دیے ہیں۔

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ قرضوں کی پوزیشن کو درست تناظر میں سمجھنا ضروری ہے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے کُل بیرونی قرضے اور واجبات 138 ارب ڈالر ہیں، لیکن اس میں نجی شعبے کے قرضے، بینکوں کی ادھار لی گئی رقم اور دیگر کاروباری واجبات بھی شامل ہیں۔ اگر صرف حکومت کے ذمہ بیرونی قرضوں کی بات کی جائے تو یہ تقریباً 92 ارب ڈالر بنتے ہیں۔

وزارتِ خزانہ نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ پاکستان اپنے بیرونی قرضوں پر آٹھ فیصد تک سود ادا کر رہا ہے۔

وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی قرضوں کا 75 فیصد حصہ کثیر القومی اداروں اور عالمی ترقیاتی پارٹنرز سے حاصل کیا گیا ہے جو انتہائی آسان شرائط اور طویل مدت کے لیے ہوتا ہے۔

کمرشل قرضے اور یورو بانڈز کُل قرضے کا صرف 14 فیصد حصہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو بیرونی قرضوں پر اوسطاً صرف چار فیصد کے لگ بھگ سود ادا کرنا پڑتا ہے۔

سود کی ادائیگیوں میں اضافے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2022 میں یہ ادائیگیاں 1.99 ارب ڈالر تھیں جو 2025 میں بڑھ کر 3.59 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر سود کی شرح میں ہونے والا اضافہ ہے۔

وزارت کے مطابق، امریکی فیڈرل ریزرو نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں نمایاں اضافہ کیا جس کے اثرات پوری دنیا بشمول پاکستان کی ادائیگیوں پر بھی پڑے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ عرصے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو 580 ملین ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک کو 615 ملین ڈالر اور ورلڈ بینک کو 419 ملین ڈالر سود کی مد میں ادا کیے گئے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق 2022 اور 2023 میں پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن میں شدید مشکلات کا سامنا تھا اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو گئے تھے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف کے پروگرام سے رجوع کیا اور دیگر عالمی اداروں سے رعایتی قرضے حاصل کیے، جس سے ذخائر کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام لانے میں مدد ملی۔

حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ قرضوں کے بہتر انتظام اور معاشی استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ معاشی اعداد و شمار کو مکمل سیاق و سباق کے ساتھ دیکھیں۔