حکومت عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر راضی تھی، ذرائع پی ٹی آئی

حکومت نے ڈاکٹر کے نام مانگے، بہنوں نے ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر عظمی کے نام دیے،حکومت نے بہنوں کے دیےگئے نام تسلیم نہیں کیے
اپ ڈیٹ 25 فروری 2026 06:54pm

پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے پر راضی تھی۔ ڈاکٹر کے نام پر اتفاق نہ ہونے سے منتقلی نہ ہوسکی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے پر آمادہ تھی، تاہم اہل خانہ اور حکومتی نمائندوں کے درمیان متفقہ ڈاکٹر کے نام پر اتفاق نہ ہونے کے باعث معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ بانی کو کم از کم دس دن کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں رکھا جائے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت مکمل علاج تک انہیں اسپتال میں رکھنے پر راضی تھی، مگر اس کے لیے شرط رکھی گئی تھی کہ علاج سے متعلق معلومات ظاہر کی جائیں گی اور کارکنان کو جمع نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب اسپتال منتقلی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے اور گاڑیاں بھی تیار تھیں۔ اس دوران اہل خانہ سے رابطہ کر کے فیملی ڈاکٹر کا نام طلب کیا گیا۔

بہنوں کی جانب سے ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر عظمیٰ کے نام دیے گئے، تاہم حکومتی فریق نے انہیں قبول نہیں کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر برکی کا نام پیش کیا گیا، جسے بھی مسترد کر دیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام تجویز کیا گیا، مگر اس پر بھی اہل خانہ اور متعلقہ افراد نے تشویش کا اظہار کیا۔ ناموں پر اتفاق نہ ہونے کے باعث اتوار کی شب حکومت نے کہا کہ اب اسپتال منتقلی ممکن نہیں رہی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق بعد میں قیادت نے پمز اسپتال کے ڈاکٹروں سے ملاقات کی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملاقات کی تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی جائیں گی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ علیمہ خان بیرسٹر گوہر کے ڈاکٹروں سے رابطوں پر ناراض ہوئیں اور انہوں نے ماضی میں پارٹی قیادت پر تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔ تاہم حکومتی اور پارٹی ذرائع کی جانب سے اس معاملے پر مکمل اور باضابطہ وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔