تہران کا امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

جب تک امریکا ایک معقول اور منصفانہ معاہدے پر راضی نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی: ایران
شائع 12 اپريل 2026 09:49am

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران کے پاس فی الحال امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

فارس کی رپورٹ کے مطابق ایران کا موقف ہے کہ وہ کسی جلد بازی کا شکار نہیں ہے اور جب تک امریکا ایک معقول اور منصفانہ معاہدے پر راضی نہیں ہوتا، تب تک عالمی تجارت کے لیے اہم راستے یعنی آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے ان طویل مذاکرات میں فریقین کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس نتیجے کو ایران کے لیے بری خبر قرار دیا تھا۔

تاہم ایران کے سابق نائب صدر عطا اللہ مہاجرانی نے اس پر ردِعمل دیتے ہوئے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اصل میں یہ امریکا کے لیے زیادہ بری خبر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے خود مذاکرات کی تجویز دی، ثالث کا بندوبست کیا اور بات چیت کے لیے ایران کی دس شرائط بھی مان لیں، لیکن وہ مذاکرات کی میز پر وہ کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا جو وہ میدانِ جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ایرانی وفد مذاکرات ختم ہونے کے بعد رات گئے اسلام آباد سے روانہ ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج اب بھی بہت وسیع ہے، خاص طور پر ایٹمی پروگرام اور بحری راستوں کے کنٹرول پر تہران اور واشنگٹن اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ تب تک آبنائے ہرمز کو نہیں کھولے گا جب تک اس کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

اس ڈیڈ لاک کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کے بحران اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امیدیں ایک بار پھر مدھم پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔