ایران کے نئے سپریم لیڈر شدید زخمی، حملے میں چہرہ خراب ہوچکا ہے: رائٹرز کا دعویٰ

مجتبیٰ خامنہ ای روزمرہ کے معاملات چلانے کے قابل نہیں ہیں
اپ ڈیٹ 12 اپريل 2026 11:03am

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق برطانوی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ وہ شدید زخمی ان کا چہرہ خراب ہوچکا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کے مطابق یہ حملہ تہران کے وسط میں واقع سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ پر کیا گیا تھا، جس میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے۔

اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای  کے چہرے کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ان کی ایک یا دونوں ٹانگیں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ ان کے اہل خانہ کے دیگر افراد بھی اس حملے میں مارے گئے۔

ان کی تقرری کے بعد سے وہ اب تک عوام کے سامنے نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی تصدیق شدہ ویڈیو یا آڈیو جاری کی گئی ہے، صرف تحریری بیانات سامنے آئے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کی شہادت کے بعد قیادت سنبھالی۔ ان کی تقرری مارچ 2026 میں ایران کی مجلس خبرگان نے کی، جب ایک عبوری کونسل نے عارضی طور پر ذمہ داریاں سنبھال رکھی تھیں۔ یہ تبدیلی ایران کی حالیہ تاریخ کی اہم ترین سیاسی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جو جنگی حالات میں سامنے آئی۔

امریکی دفاعی حکام نے بھی اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی اور ممکنہ طور پر چہرے سے معذور ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ کچھ حکام نے معمولی زخمی ہونے کا کہا جبکہ دیگر نے انہیں مکمل طور پر فعال قرار دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید زخموں کے باوجود وہ اب بھی محدود انداز میں رابطوں کے ذریعے فیصلوں میں حصہ لے رہے ہیں، تاہم ان کی عوامی عدم موجودگی نے ایران کی قیادت اور ادارہ جاتی استحکام پر سوالات کو جنم دیا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی جانب سے محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری کنی شریک ہیں، جبکہ امریکا کی نمائندگی اسٹیو وٹکوف، جے ڈی وینس اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ مذاکرات براہ راست اور منظم انداز میں ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی عسکری قیادت اس عمل میں اہم سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔