آسٹریلیا کا امریکا اور ایران سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ

آسٹریلیا نے امریکا اور ایران دونوں فریقوں سے جنگ بندی برقرار رکھنے اور دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔...
شائع 12 اپريل 2026 04:57pm

آسٹریلیا نے امریکا اور ایران دونوں فریقوں سے جنگ بندی برقرار رکھنے اور دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

آسٹریلوی وزیرخارجہ پینی وونگ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونا افسوسناک ہے۔

پینی وونگ کے مطابق، اب ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ جنگ بندی کو جاری رکھا جائے اور مذاکرات کی میز پر واپس آیا جائے، ہم ایران امریکا تنازع کے جلد حل کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تنازع میں کسی بھی قسم کی شدت نہ صرف انسانی جانوں کے لیے مزید نقصان دہ ہوگی بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات ڈالے گی۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کے باوجود صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے جب کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں، جس کے باعث حالیہ جنگ بندی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران نے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری سمیت اہم مطالبات تسلیم نہیں کیے، جبکہ ایرانی حکام نے امریکا پر غیر حقیقت پسندانہ شرائط عائد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے، تاہم دونوں فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے، جس کے بعد وفود واپس روانہ ہوگئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور یوں یہ تنازع باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہوگیا تھا۔ بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی تھی۔

دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود خطے میں جھڑپیں جاری ہیں، لبنان میں اسرائیلی حملوں میں عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں، جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق فی الحال جنگ بندی برقرار ہے تاہم مذاکرات کی ناکامی کے بعد مستقبل میں حالات کا دارومدار آئندہ سفارتی کوششوں پر ہوگا۔