حوثیوں کا اسرائیل کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے شروع کرنے کا اعلان

بحیرہ احمرمیں آج رات اسرائیلی جنگی اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے
شائع 28 فروری 2026 02:23pm

یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور بحیرہ احمر کے بحری راستوں پر دوبارہ میزائل اور ڈرون حملے شروع کرے گا۔

یہ بات حوثی تنظیم کے دو سینیئر عہدیداروں نے بتائی ہے، تاہم انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی کیونکہ تنظیم کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ایک عہدیدار کے مطابق پہلا حملہ’آج رات‘ ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ راستہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی اس علاقے میں حملوں کے باعث کئی تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کرنا پڑا تھا۔

حوثیوں نے اس سے پہلے امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت بحیرہ احمر میں حملے روک دیے تھے۔

اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ نے بھی حوثیوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں معطل کر دی تھیں۔ اسی طرح اسرائیل پر حملے بھی گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد روک دیے گئے تھے، جس کے بعد علاقے میں نسبتاً سکون پیدا ہو گیا تھا۔

تازہ اطلاعات کے مطابق حوثی گروپ ایران کی حمایت میں دوبارہ سرگرم ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر حملے دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو نہ صرف اسرائیل بلکہ عالمی بحری تجارت اور خطے کے امن پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ فی الحال حوثی قیادت کی جانب سے کسی حتمی اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ عالمی برادری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔