’امریکا نے اپنا اصل رنگ دکھا دیا‘: روس کا ایران پر کیے گئے حملوں پر ردعمل
روس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ایران پر حملے امریکی حملے بعد سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے اپنا اصل رنگ دکھا دیا ہے۔
روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف، جو صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو فوجی کارروائی کی تیاری کے لیے بطور پردہ استعمال کیا۔
دمتری میدویدیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں کہا کہ ’امن کا دعویٰ کرنے والوں نے ایک بار پھر اپنے اصل رنگ دکھا دیے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات دراصل ایک ’کور آپریشن‘ تھے اور کسی کو بھی اس پر شبہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق حقیقت میں کسی فریق کی سنجیدہ معاہدے کی نیت نہیں تھی۔
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واشنگٹن کا مؤقف رہا ہے کہ اس کی پالیسیاں خطے میں سکیورٹی کو یقینی بنانے اور ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے ہیں۔
روسی حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماسکو پہلے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہا ہے اور ایران کے ساتھ سفارتی و معاشی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔
















