ایران کو ابھی سختی سے نہیں مارا، بڑا حملہ جلد ہوگا: ٹرمپ کی تہران کو نئی دھمکی

امریکی صدر نے ایران پر ایک بڑے حملے کی بھی دھمکی دے دی۔
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 12:03am

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر زمینی جنگ بھی بھیج سکتا ہے۔ انھوں نے ایران پر بڑے حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر ہم نے حملہ اتنی شدت سے نہیں کیا، بڑا حملہ تو ابھی آرہا ہے۔

واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو دہشت گرد حکومت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا یہ اقدامات اپنی حفاظت اور عالمی اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران نے امریکی و یورپی وارننگز کو نظر انداز کیا اور اس کا ایٹمی پروگرام خطے اور بین الاقوامی برادری کے لیے خطرہ ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے میزائل خوبصورت اور امریکا تک پہنچنے کے قابل تھے اور ایران مشرق وسطیٰ کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس لمبے فاصلے کے میزائل اور جوہری ہتھیار ہوں، تو یہ مشرق وسطیٰ اور امریکا دونوں کے لیے بڑا خطرہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا ہونے پر امریکا خود بھی خطرے میں ہوگا۔

انہوں نے سابق ایرانی جنرل سلیمانی کو روڈ سائیڈ بموں کا باپ قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اپنے پہلے دور میں انہوں نے سلیمانی کو ہلاک کیا اور ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیتیں محدود کیں۔

امریکی صدر نے ایران پر حملوں کی شدت میں اضافہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم نے ابھی ان پر حملہ اتنی شدت سے نہیں کیا، بڑا حملہ تو ابھی آنے والا ہے۔ جہاں تک جانا پڑا ہم جائیں گے۔ ضرورت پڑنے پر زمینی فوج بھی بھیجی جا سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی میزائل صلاحیت تباہ کرنا پہلی ترجیح ہے، ایران کے انچاس سینئر رہنما ہلاک کردیے، موجودہ کارروائیوں میں چار سے پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں، لیکن امریکی فوج کے پاس اس سے زیادہ وقت تک جنگ لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے ایران پر بڑے اور طویل عرصے تک اثر انداز ہونے والے حملوں کا واضح اشارہ دیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی امریکی فوج کو ایران میں اتارنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ اس وقت ایران میں امریکی فوج کو نہیں اتارا گیا ہے، تاہم انہوں نے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ قدم کو مسترد کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جہاں تک جانا پڑا جائے گا، لیکن غیر دانشمندانہ اقدام نہیں کیا جائے گا۔