ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ کے 3 ممکنہ نتائج: امریکا کی کامیابی یا بڑی تباہی کے امکانات کتنے ہیں؟

صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر جس جنگ کا آغاز کیا ہے، اس میں ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد اب صورتحال کافی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
شائع 03 مارچ 2026 03:28pm

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک بیان دیتے ہوئے ایران کے خلاف فتح کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ مکمل طور پر صدر ٹرمپ کی شرائط اور ’امریکا فرسٹ‘ کی پالیسی کے تحت ختم ہوگی۔ تاہم ان کا یہ بیان 2001 میں سابق صدر جارج بش کے اس وعدے کی یاد دلاتا ہے جس میں انہوں نے نائن الیون کے بعد ایسی ہی فتح کی نوید سنائی تھی، لیکن اس کے نتیجے میں امریکا بیس سال تک طویل اور خونی جنگوں میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ موجودہ حکومت ماضی کے ان تلخ تجربات سے سبق سیکھنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر جس جنگ کا آغاز کیا ہے، اس میں ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد اب صورتحال دو انتہائی راستوں پر کھڑی ہے۔

ایک طرف تو یہ خطرہ ہے کہ غیر واضح مقاصد کے تحت شروع ہونے والی یہ جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں افراتفری پھیلا دے گی، جس میں ہزاروں عام شہری مارے جائیں گے اور مستقبل میں امریکا کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر جنم لے گی۔

دوسری طرف صدر ٹرمپ کے حامیوں کا خیال ہے کہ اگر وہ اپنے دشمن کو غیر مسلح کرنے اور ایران میں جمہوریت کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو یہ ان کی بڑی اسٹریٹجک جیت ہوگی۔

اس وقت ماہرین تین ممکنہ نتائج کی بات کر رہے ہیں۔

کونسل آن فارن ریلیشنز کے سینئر فیلو اور بش انتظامیہ میں خارجہ پالیسی کے سابق اعلیٰ عہدیدار ایلیٹ ابرامز کے مطابق، پہلا اور بہترین نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی فضائی حملوں کے بعد ایرانی عوام خود اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ایک نیا ایران جنم لے جو پورے خطے کو بدل دے۔

دوسرا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایران کے باقی ماندہ رہنما اقتدار پر گرفت برقرار رکھیں لیکن امریکا ان کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو اس حد تک تباہ کر دے کہ وہ خطے کے لیے خطرہ نہ رہیں۔

تیسرا اور بدترین نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایران کی حالت لیبیا جیسی ہو جائے جہاں حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کی وجہ سے خانہ جنگی شروع ہو جائے اور وہاں موجود جوہری مواد شدت پسند گروپوں کے ہاتھ لگ جائے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے مقاصد کے حوالے سے امریکی حکومت خود بھی الجھن کا شکار نظر آتی ہے۔

صدر ٹرمپ کبھی حکومت کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو کبھی جوہری پروگرام کی تباہی کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اسے اسرائیل کے تحفظ کے لیے ایک پیشگی کارروائی قرار دیتے ہیں۔

سینیٹر جین شاہین جیسے ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ وہ آخر چاہتے کیا ہیں، کیونکہ واضح حکمت عملی کے بغیر ایسی فضائی کارروائیاں شاید ہی کبھی کسی ملک میں مستحکم تبدیلی لا سکی ہوں۔

عوامی سطح پر بھی صدر ٹرمپ کو دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق دس میں سے چھ امریکی اس فوجی کارروائی کے مخالف ہیں۔

اگر یہ جنگ طویل ہوئی یا اس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں، تو ٹرمپ کے لیے اپنے ملک کے اندر سیاسی حمایت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

جہاں وزیر دفاع فتح کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہیں تاریخ دان اور سیاسی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی حقیقتیں اکثر واشنگٹن میں بیٹھ کر بنائے گئے منصوبوں سے بالکل مختلف ہوتی ہیں اور اس جنگ کا انجام کیا ہوگا، یہ ابھی کوئی نہیں جانتا۔