پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر اظہار تشویش
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا کے بھارت کے ساتھ جوہری تعاون پر تحفظات ہیں، ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال میں کسی کو استثنیٰ نہیں۔
جمعرات کے روز پاکستان نے کینیڈا اور بھارت کے درمیان یورینیم کی طویل مدتی فراہمی اور جوہری ری ایکٹر ٹیکنالوجی میں ممکنہ تعاون کے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے کینیڈا اور بھارت کے درمیان یورینیم کی سپلائی اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز سمیت جدید جوہری ری ایکٹر ٹیکنالوجی میں ممکنہ تعاون کے معاہدے کا نوٹس لیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ سول جوہری تعاون کے شعبے میں کسی مخصوص ملک کو دی جانے والی ایک اور رعایت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1974 میں بھارت کا جوہری تجربہ کینیڈا کی فراہم کردہ ری ایکٹر سے حاصل شدہ پلوٹونیم کے ذریعے کیا گیا تھا، جس کے بعد ہی نیوکلیئر سپلائرز گروپ قائم کیا گیا تھا۔
دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے اپنی تمام سول جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں نہیں دیا اور نہ ہی اس معاہدے کے تحت ایسا کرنے کا کوئی واضح وعدہ کیا ہے۔ کئی جوہری تنصیبات اب بھی بین الاقوامی معائنہ سے باہر ہیں جب کہ یہ بھی واضح نہیں کہ اس معاہدے کے ساتھ عدم پھیلاؤ کے حوالے سے کون سی ضمانتیں دی گئی ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ بیرونی یورینیم سپلائی بھارت کو اپنے مقامی ذخائر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی سہولت دے سکتی ہے، جس سے اس کے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں اضافہ اور جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک عدم توازن مزید بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ سول جوہری تعاون غیر امتیازی اور مساوی معیار پر مبنی ہونا چاہیے اور ایسے ممالک پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ ترجمان کے مطابق منتخب رعایتیں عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور خطے و دنیا کے امن و سلامتی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
















