دن کے آخر میں ٹانگیں بھاری یا سوجی ہوئی کیوں ہوتی ہیں؟
اگر آپ کو دن کے آخر میں ٹانگیں بھاری، سوجی ہوئی یا تھوڑا درد محسوس ہوتا ہے تو یہ صرف تھکن نہیں بلکہ جسم کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ خون یا جسم میں پانی کا بہاؤ صحیح نہیں ہے۔
ٹانگوں کی رگیں خون کو دل کی طرف دھکیلتی ہیں، لیکن اگر یہ رگیں کمزور ہو جائیں تو خون اور پانی ٹانگوں میں جمع ہو جاتا ہے۔ صبح ٹانگیں عموماً نارمل رہتی ہیں، لیکن دن کے آخر تک بھاری پن اور سوجن بڑھ جاتی ہے ، جوتے تنگ ہونے لگتے ہیں موزے اتارنے کے بعد ٹخنوں پر نشان بھی بن سکتے ہیں۔ بعض افراد میں ورائکوز وینز یعنی سوجی ہوئی رگیں بھی ظاہر ہو جاتی ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹر ابھیسار کٹیار کا کہنا ہے کہ دل کی کمزوری بھی ٹانگوں میں سوجن کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ دل اگر کمزور ہو تو خون سست حرکت کرتا ہے اور پانی ٹانگوں میں جمع ہو جاتا ہے۔
ایسے میں شام کے وقت سوجن بڑھ جاتی ہے، چلنے یا کام کرنے پر سانس پھولنے لگتی ہے اور تھکن بھی آرام کرنے کے بعد کم نہیں ہوتی۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بلڈ سرکولیشن کے کئی مسائل اس کے پیچھے کارفرما ہوسکتے ہیں۔
گردوں کی کمزوری بھی اس کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ گردے جسم کے قدرتی فلٹر کے طور پر کام کرتے ہیں خون سے زائد پانی، نمک اور فضلہ نکال دیتے ہیں۔ جب گردے صحیح طریقے سے کام نہیں کرتے تو پانی ٹانگوں، پیروں اور کبھی کبھار چہرے میں بھی جمع ہو سکتا ہے۔
کچھ علاقوں میں مچھر سے لگنے والی بیماری لیمفیٹک فلیریاسس نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہے جس سے ٹانگوں میں سوجن پیدا ہو جاتی ہے اور شدید صورت میں یہ مستقل اور بہت بڑی ہو سکتی ہے، جسے عام طور پر ہاتھی پاؤں کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری دنیا کے گرم اور نیم‑گرم علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جہاں مچھر بہت ہوتے ہیں اور پانی یا نمی زیادہ ہوتی ہے۔
جگر کی بیماری بھی ایک وجہ ہے کیونکہ جگر ایک خاص پروٹین بناتا ہے جو جسم میں پانی برقرار رکھتا ہے۔ جب جگر بیمار ہو جائے تو یہ پروٹین کم ہو جاتا ہے اور پانی ٹانگوں اور پیٹ میں جمع ہونے لگتا ہے۔
کشش ثقل خون کی گردش میں اہم کردا ادا کرتی ہے۔ دن بھر بیٹھنے، چلنے یا کھڑے رہنے سے خون اور پانی ٹانگوں میں نیچے کی طرف جاتا ہے۔ صحت مند رگیں اسے واپس دل کی طرف دھکیل دیتی ہیں اگر گردش خون ٹھیک نہ ہو تو پانی آہستہ آہستہ جمع ہوجاتا ہے۔
شام تک رگوں میں دباو زیادہ ہوتا ہے، سوجن بڑھ جاتی ہے اور ٹانگیں بھاری محسوس ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر کا پہلا سوال ہوتا ہے کہ سوجن کب سے شروع ہوتی ہے؟
یار رکھیں، ہر سوجن کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو کوئی بیماری ہے۔ لمبا سفر، گرمی یا نمکین کھانا عارضی طور پر اس کا سبب ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر یہ علامات مستقل رہیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے، خاص طور پر اگر سوجن روزانہ ہو، صرف ایک ٹانگ میں ہو، ٹانگ میں درد یا سرخی ہو، سانس لینے میں مشکل ہو یا ٹخنوں کے پاس جلد کا رنگ یا شکل بدل جائے۔ بروقت علاج سے مسائل بڑھنے سے بچ جاتے ہیں اور صحت بہتر رہتی ہے۔
















