جنگ کا نواں روز: ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے،11 افراد جاں بحق، ایران کے بھی اسرائیل پر جوابی وار
ایران کے صوبہ اصفہان میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔
عرب اور ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں کے دوران ایک مینوفیکچرنگ ورکشاپ سمیت کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عمارتوں کو نقصان پہنچا اور شہری ہلاکتیں ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے اصفہان کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ صوبائی سکیورٹی حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 11 افراد جان سے گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ میڈیا اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ایک مینوفیکچرنگ ورکشاپ اور ایک گھڑ سواری کلب بھی حملوں کی زد میں آئے اور مختلف شہری علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اطلاعات کے مطابق اصفہان صوبے کے کم از کم آٹھ شہروں میں حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں اصفہان، نجف آباد، آران و بیدگل، برخوار، خمینی شہر، شہرضا، فلاورجان اور مبارکہ شامل ہیں۔ اصفہان ایران کا ایک اہم صنعتی اور اسٹریٹجک مرکز ہے جہاں اہم جوہری اور دفاعی تنصیبات بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب تہران میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ کوہاک، شاہران اور کاران کے علاقوں میں آئل ڈپو اور ایک آئل ریفائنری پر حملوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران اور صوبہ البرز میں آئل ڈپو پر حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے جو ٹرک ڈرائیور بتائے جاتے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق رات بھر جاری حملوں میں مجموعی طور پر 11 شہری ہلاک ہوئے اور یہ ہلاکتیں اصفہان، نجف آباد، آران، بیدگل، برخوار اور فلاورجان میں ہوئیں۔ ایران نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ادھر ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے شہر حیفا میں واقع آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔ ایران کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اہداف بھی اس کے نشانے پر ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئربیس پر ڈرون حملہ کیا گیا جبکہ کویت میں عریفجان بیس میں امریکی ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف چھ ماہ تک شدید جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران اب تک قسیم اول اور دوم کے میزائل استعمال کر چکا ہے اور جلد جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ نے ایران پر ایک اسکول پر بمباری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے یا تصفیے کی تلاش میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے ورنہ اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں ایسی قیادت ہونی چاہیے جو ملک کو دوبارہ جنگ کی طرف نہ لے جائے۔
ماہرین کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتحال تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور خطے میں مزید فوجی کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔













