جنگ کب ختم ہوگی؟ فیصلہ امریکا نہیں ایران کرے گا: ترجمان پاسدارانِ انقلاب
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری رہے تو خطے سے تیل کی ترسیل روکی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جنگ کو وسعت دینے کی صلاحیت موجود ہے، آنے والے حالات کا فیصلہ اب ایران کرے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل علی محمد نعینی کا کہنا ہے کہ ایرانی افواج نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے جاری رہنے تک خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ جاری رکھنے یا اسے ختم کرنے کا فیصلہ امریکی افواج نہیں کریں گی بلکہ یہ فیصلہ اب ایران کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کی قیادت اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنا کر ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی مگر ان کے منصوبے ناکام ہوگئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوجی بھی حملوں کے خوف سے شہری آبادی اور سول تنصیبات کے درمیان چھپ کر انسانی ڈھال استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی مسلح افواج اور فوجی طاقت کے خاتمے کے بارے میں جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔ ٹرمپ جنگ میں ناکامیوں کے بعد جھوٹی کامیابیاں دکھانے، عوام کو گمراہ کرنے اور نفسیاتی دباؤ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جنرل علی نعینی کا کہنا ہے ٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی اور فوجی جہاز باآسانی گزر رہے ہیں، کیوں کہ امریکی بحری جہاز، جنگی طیارے اور دیگر فوجی اثاثے ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کے خوف سے ایک ہزار کلومیٹر دور بھاگ چکے ہیں۔
جنرل علی نعینی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے ایرانی میزائل حملوں میں کمی کا دعویٰ بھی کیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایرانی میزائل حملوں زیادہ طاقت کے ساتھ جاری ہیں اور اب ایک ٹن سے زائد وزنی وارہیڈز کے ساتھ میزائل امریکی اڈوں اور اسرائیلی اہداف کی جانب داغے جا رہے ہیں۔
ترجمان پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ٹرمپ یہ ظاہر کررہے ہیں کہ خطے میں امریکی فوجیوں کی صورت حال معمول کے مطابق ہے حالانکہ امریکی فوجی اپنے اڈوں سے نکل کر بیگ اٹھائے مختلف شہروں میں پناہ لینے اور ہوٹلوں میں قیام پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے خطے میں امریکا کے تقریباً 10 جدید ریڈار نظام تباہ کر دیے ہیں اور ایرانی ایئر ڈیفنس نے متعدد مہنگے امریکی ڈرونز کو بھی مار گرایا ہے اور اب امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کی آمد کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی ایرانی میزائل ختم ہو چکے ہیں تو پھر میڈیا کو تباہی اور حملوں کی تصاویر شائع کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار کیوں چھپائے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کے ساتھ جنگ کے جلد خاتمے کا عندیہ دیا ہے جب کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات یا بات چیت اب ایران کے ایجنڈے میں شامل نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے جوہری مذاکرات کے دوران ایران کا تجربہ انتہائی تلخ رہا جس کے بعد اب واشنگٹن پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔













