امریکا اسرائیل حملے: ایران میں 9 اسپتال اور 52 اسکول تباہ، سیکڑوں بچے جاں بحق

اس وقت ایران کے پاس ادویات کا ذخیرہ تقریباً چھ ماہ کے لیے موجود ہے: محمد جمالیان
شائع 10 مارچ 2026 03:39pm

ایران میں جاری حملوں کے بعد انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ملک کے کئی طبی اور تعلیمی ادارے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں عام شہری بھی جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی صحت کمیٹی کے رکن محمد جمالیان نے کہا ہے کہ حالیہ حملوں کے بعد ملک کے کم از کم نو اسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق جنگی صورتحال کے باعث اسپتالوں پر شدید دباؤ ہے، اسی لیے غیر ضروری طبی عمل جیسے کاسمیٹک سرجریاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں تاکہ ایمرجنسی مریضوں کے لیے زیادہ جگہ اور وسائل فراہم کیے جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایران کے پاس ادویات کا ذخیرہ تقریباً چھ ماہ کے لیے موجود ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ لرستان کے محکمہ تعلیم کے سربراہ نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم چار طلبہ مارے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں صوبے کے 52 اسکولوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بھی جنگ کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کے مطابق اب تک امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 193 بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں سب سے کم عمر آٹھ ماہ کی ایک بچی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگ میں چار ماہ کا ایک بچہ زخمی بھی ہوا ہے۔

ترجمان کے مطابق حملوں کے دوران طبی شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 11 طبی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 52 صحت کی سہولت فراہم کرنے والے یونٹس، 29 طبی مراکز، 19 ایمرجنسی یونٹس اور 16 ایمبولینسز کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے چار ایمبولینسیں اور ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شہری انفراسٹرکچر، خاص طور پر اسپتالوں اور اسکولوں پر حملوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنگ کے دوران ایران میں صحت کے مراکز پر متعدد حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جس کے باعث طبی نظام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب آذربائیجان نے ایران کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں ’خیر سگالی‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جب چند روز قبل مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ قفقاز کے خطے تک پھیلنے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

آذربائیجان کی ہنگامی حالات کی وزارت نے بتایا کہ 8 مارچ کو آذربائیجان اور ایران کے صدور کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد ٹنوں خوراک اور ادویات ایران روانہ کر دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران طویل عرصے سے اسرائیل پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ آذربائیجان کی سرزمین کو انٹیلی جنس آپریشنز اور ممکنہ حملوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔