عرب ممالک میں رمضان کی اہم روایت ’غبگہ‘ کیا ہے؟
رمضان المبارک کا مہینہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عبادت، روحانیت اور میل جول کا وقت ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں بھی اس مقدس مہینے کے دوران کئی سماجی روایات دیکھنے کو ملتی ہیں جو خاندانوں اور دوستوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔ انہی روایات میں ایک اہم روایت ”غبگہ“ کہلاتی ہے، جو عام طور پر تراویح کی نماز کے بعد منعقد کی جاتی ہے۔
’غبگہ‘ دراصل ایک دوستانہ اور خاندانی نشست ہوتی ہے جہاں لوگ اکٹھے ہو کر وقت گزارتے ہیں، بہترین کھانوں اور مشروبات کے ساتھ رمضان کی پُرسکون راتوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔ غبگہ عام طور پر رمضان المبارک میں افطار کے بعد اور سحری سے پہلے کھایا جانے والا ایک کھانا یا محفل ہوتی ہے۔
اس محفل کا بنیادی مقصد خاندان، دوستوں اور جاننے والوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنا اور خوشگوار ماحول میں وقت گزارنا ہوتا ہے۔ لفظ غبگہ کا مطلب ہی ”جمع ہونا“ یا ”محفل“ ہے، جو اس روایت کی اصل روح کو ظاہر کرتا ہے۔

لفظ ”غبگہ“ کا تعلق زیادہ تر کویت سے جوڑا جاتا ہے، جہاں یہ اصطلاح طویل عرصے سے رمضان کی راتوں میں افطار اور سحری کے درمیان ہونے والی محفلوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ لفظ خلیجی معاشروں میں عام ہوتا گیا اور اب متحدہ عرب امارات سمیت پورے خطے میں رمضان کی ان گہری رات کی نشستوں کو غبگہ کہا جاتا ہے۔
امارات میں غبگہ عموماً سادہ اور گھریلو ماحول میں منعقد کیا جاتا ہے۔ اکثر یہ نشست گھر کے ڈرائنگ روم یا مجلس میں ہوتی ہے جہاں مہمانوں کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ رمضان کی مناسبت سے لالٹینیں، نرم گدے، رنگین کشن اور روایتی سجاوٹ کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ ماحول خوشگوار اور مہمان نواز محسوس ہو۔

اس محفل کی تیاری اکثر دن کے وقت ہی شروع ہو جاتی ہے۔ بیٹھنے کے مقامات ترتیب دیے جاتے ہیں اور میزوں پر مختلف اقسام کے پکوان اور مشروبات رکھے جاتے ہیں۔
غبگہ میں پیش کیا جانے والا کھانا عام طور پر افطار کے مقابلے میں ہلکا ہوتا ہے۔ اس میں کھجوریں، نمکین اسنیکس، میٹھے پکوان اور مشروبات جیسے عربی قہوہ، چائے اور جوس شامل ہوتے ہیں۔ کچھ کھانے گھر میں تیار کیے جاتے ہیں جبکہ زیادہ مہمانوں کی صورت میں بعض چیزیں باہر سے بھی منگوائی جاتی ہیں۔
غبگہ صرف کھانے پینے کی محفل نہیں بلکہ ایک سماجی تقریب بھی سمجھی جاتی ہے۔ خاص طور پر خواتین اور نوجوان لڑکیاں اس موقع پر خوب تیاری کرتی ہیں اور روایتی اماراتی لباس ”مخاور“ زیب تن کرتی ہیں جو عموماً رنگین اور دیدہ زیب ہوتا ہے۔ بالوں کی سجاوٹ اور ہلکے زیورات بھی اس تیاری کا حصہ ہوتے ہیں، جس سے رات کی محفل میں ایک تہوار جیسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔

شام ڈھلنے کے بعد مہمان پہنچنا شروع ہوتے ہیں اور محفل اکثر رات گئے تک جاری رہتی ہے۔ خاندان کے افراد، دوست، پڑوسی اور بعض اوقات ساتھی کارکن بھی اس میں شریک ہوتے ہیں۔ لوگ بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں، کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور رمضان کی راتوں کا پرسکون ماحول، مل کر محسوس کرتے ہیں۔
اگرچہ لفظ غبگہ خلیجی ممالک میں کویت کے ذریعے زیادہ معروف ہوا، تاہم رمضان کی راتوں میں اس طرح کی نشستوں کی روایت پورے خطے میں کافی عرصے سے موجود ہے۔ آج متحدہ عرب امارات میں غبگہ ایک اہم سماجی روایت بن چکی ہے جو مہمان نوازی، خاندانی تعلقات اور رمضان کی روحانی فضا کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔















