مٹی کے گھڑے کے استعمال سے متعلق 5 بڑی غلطیاں
آج کے جدید دور میں بھی کئی گھرانے ایسے ہیں جہاں گرمیوں کا آغاز ہوتے ہی فریج کے ٹھنڈے پانی کی جگہ ’مٹی کے گھڑے‘ یا مٹکے کا ٹھنڈا پانی پیا جاتا ہے۔ قدرت کا یہ انوکھا تحفہ نہ صرف پانی کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھتا ہے بلکہ گلے کو بھی نقصان نہیں پہنچاتا۔ اسی وجہ سے اسے گرمیوں کا قدرتی اور روایتی ”دیسی فریج“ بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مٹکے کی دیکھ بھال میں ذرا سی بھی غفلت برتی جائے تو یہ ’آبِ حیات‘ زہر بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مٹی کے مٹکے میں رکھا پانی نہ صرف ٹھنڈا رہتا ہے بلکہ اس کی الکلائن خصوصیات جسم کے پی ایچ لیول کو متوازن رکھنے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔ تاہم اگر مٹکے کی صفائی اور دیکھ بھال کا خیال نہ رکھا جائے تو یہی پانی صحت کے لیے نقصان دہ بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے مٹکا استعمال کرتے وقت چند اہم باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
اپنی صحت کی حفاظت کے لیے مٹکے کا پانی استعمال کرتے وقت ان غلطیوں سے بچیں
صابن یا ڈٹرجنٹ کا استعمال
مٹکے کو ہر دو سے تین دن بعد خالی کرکے اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔ اسے صرف صاف پانی اور ہاتھ یا صاف کپڑے سے رگڑ کر دھوئیں اور صابن یا ڈٹرجنٹ کا استعمال نہ کریں۔ مٹی میں موجود باریک سوراخ ان کیمیکلز کو جذب کر لیتے ہیں، جو بعد میں پانی میں شامل ہو کر آپ کے معدے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
پانی نکالنے کے لیے ہاتھ یا گلاس اندر ڈالنا
کئی لوگ مٹکے سے پانی نکالتے وقت ہاتھ یا گلاس اندر ڈال دیتے ہیں، اس سے پانی آلودہ ہو جاتا ہے جو انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ ہمیشہ لمبے دستے والا ڈونگا استعمال کریں یا ٹونٹی والا مٹکا خریدیں۔
دھوپ میں رکھنا
بہت سے لوگ مٹکے کو ایسی جگہ رکھتے ہیں جہاں براہ راست دھوپ آتی ہو۔ مٹکے کو کبھی بھی دھوپ میں نہ رکھیں۔ دھوپ سے پانی گرم ہو جاتا ہے اور مٹی کی قدرتی خصوصیات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ مٹکے کو گھر کے کسی ٹھنڈے اور سایہ دار حصے میں رکھیں۔ اسے گیلے کپڑے یا بوری سے لپیٹ کر رکھیں تاکہ تبخیر کا عمل بہتر ہو اور پانی زیادہ ٹھنڈا رہے۔
پرانا مٹکا تبدیل نہ کرنا
مٹی کے گھڑے کی بھی ایک ’شیلف لائف‘ ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے باریک سوراخ بند ہو جاتے ہیں، جس سے پانی ٹھنڈا ہونا بند ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہر سال نیا مٹکا استعمال کیا جائے، تاکہ آپ کو تازہ اور معیاری ٹھنڈا پانی مل سکے۔
ڈھکن کی صفائی سے غفلت
اکثر ہم مٹکے کی صفائی تو کرتے ہیں لیکن اس کے ڈھکن کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ڈھکن پر جمی دھول مٹی پانی میں گر کر اسے مضرِ صحت بنا دیتی ہے۔ ہمیشہ ایسا ڈھکن استعمال کریں جو مٹکے پر پوری طرح فٹ ہو تاکہ کیڑے مکوڑے یا گرد و غبار اندر نہ جا سکے۔
مٹی کا گھڑا صرف ایک برتن نہیں بلکہ صحت کا ضامن ہے، بشرطیکہ اسے ہر 2 سے 3 دن بعد خالی کر کے اچھی طرح صاف کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق اگر مٹکے کی صفائی، جگہ اور استعمال کے طریقے کا درست خیال رکھا جائے تو مٹی کے مٹکے کا پانی گرمیوں میں نہ صرف قدرتی ٹھنڈک فراہم کرتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی ایک محفوظ اور فائدہ مند انتخاب بن سکتا ہے۔















