آپریشن غضب للحق: افغان طالبان رجیم کے 641 کارندے ہلاک، 243 چیک پوسٹیں تباہ

افغان طالبان کے زیرِ قبضہ پوزیشنوں سے روسی ساختہ 73 ملی میٹر HGL-9 ہیوی گرینیڈ لانچرز قبضے میں لے لیے گئے
اپ ڈیٹ 11 مارچ 2026 09:32pm

آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان رجیم کے 641 کارندے ہلاک اور 855 سے زائد زخمی ہوگئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان رجیم کو نمایاں نقصان پہنچایا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق 11 مارچ کو شام چار بجے تک جاری کارروائیوں کے دوران مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے 243 چیک پوسٹس کو بھی تباہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ مزید 42 چیک پوسٹس کو قبضے میں لینے کے بعد مکمل طور پر تباہ بھی کر دیا گیا تاکہ انہیں دوبارہ استعمال نہ کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ کارروائیوں میں عسکری ساز و سامان کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 219 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے کے مختلف ہتھیار تباہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق فضائی کارروائیوں میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے 65 مقامات کو بھی مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق کے دوران ژوب سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد طالبان اہلکار اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ژوب سیکٹر میں پاک فوج نے افغان طالبان کی پوسٹ نمبر 2 اور 3 کو نشانہ بنایا۔ بروقت اور بھرپور کارروائی کے باعث افغان طالبان اہلکار اسلحہ چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے افغان طالبان کے زیر قبضہ پوزیشنوں سے روسی ساختہ 73 ملی میٹر HGL9 ہیوی گرینیڈ لانچر بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائیوں کے باعث افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کو پسپائی اختیار کرنا پڑ رہی ہے اور آپریشن اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔