ایران کا اسرائیل پر پہلی بار ’سجیل میزائل‘ سے حملہ، یہ کتنا خطرناک ہے؟

ایرانی میزائل سجیل ٹھوس ایندھن سے چلنے والا میزائل ہے
شائع 16 مارچ 2026 10:20am

ایران نے اسرائیل کے خلاف آپریشن وعدہ صادق کی 54ویں لہر کا آغاز کردیا، جس میں ایران کی مسلح افواج کی جانب سے پہلی مرتبہ طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے طاقتور ’سجیل اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل‘ کو عملی طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے جواب میں ایران کی جوابی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں، اس سلسلے میں ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ حملے کی 54 ویں لہر کا نام ’یازہرہ‘ رکھا گیا ہے، خطے میں دشمن کے اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے، پہلی بار سجیل میزائلوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

ایرانی میزائل سجیل ٹھوس ایندھن سے چلنے والا میزائل ہے جسے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جارحانہ جنگ کے بعد پہلی بار استعمال کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا کہ اس میزائل کے ذریعے اسرائیلی حکومت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

الجزیرہ کے مطابق سجیل کے معنی ایک پتھر کے بتائے جاتے ہیں۔ یہ ایک سالڈ فیول بیلسٹک میزائل ہے جس کی اندازاً مار کرنے کی حد 2 ہزار سے دو ہزار 500 کلومیٹر (1,240 سے 1,550 میل) تک ہے، جبکہ اس کی رفتار (ماخ 13) سے بھی زیادہ یعنی آواز کی رفتار سے 13 گنا تیز بتائی جاتی ہے۔ اس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اسے نسبتاً کم وقت میں لانچ کیا جا سکتا ہے۔

جریدے دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق یہ میزائل مصر تک کے ممالک، سوڈان کے بعض حصوں، یوکرین کے بیشتر علاقوں، جنوبی روس کے کچھ حصوں، مغربی چین کے ایک حصے، بھارت اور بحیرۂ ہند و بحیرۂ روم کے وسیع علاقوں تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سجیل کی اصطلاح قرآن مجید کی سورۃ الفیل میں بیان ہونے والے واقعے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے، جہاں سجیل کے پتھروں کے ذریعے حملہ آور دشمن کو تباہ کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔