ایران کے اسرائیل اور امریکی اہداف پر میزائل حملے، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز بھی نشانہ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی 57 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کر دیا، تازہ حملوں میں ایران کی جانب سے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی خلیجی خطے میں سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے ایرانی حملوں کی تصدیق کردی۔
آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق یہ تازہ حملے ’یا سید الساجدین علیہ السلام‘ کے نام کیے گئے اور اسے رمضان میں والدہ کی گود میں خاندان کے ہمراہ شہید ہونے والے شیرخواربچے مجتبیٰ کے نام منسوب کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے مرکزی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور میزائل دفاعی مواصلاتی نظام شامل تھے۔ اس مقصد کے لیے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اسی دوران قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر بھی حملہ کیا گیا جہاں امریکی افواج تعینات ہیں، اس کارروائی میں ذوالفقار اور قیام درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتھ حملہ آور ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی خطے میں ایران کے حملوں کے نتیجے میں امریکا کی کم از کم 17 فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ اخبار کے مطابق ایران کئی تنصیبات کو ایک سے زائد بار نشانہ بنا چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں امریکا کی مجموعی طور پر 22 فوجی تنصیبات موجود ہیں جن میں سے 11 تنصیبات ایرانی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق 9 مارچ کو ایران نے قطر میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔
جنگ کے نتیجے میں اب تک امریکی ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو چکی ہے جب کہ تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل میں 15 افراد ہلاک اور 3369 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق خطے کے دیگر ممالک میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ کویت میں 6، اومان میں 3 اور سعودی عرب میں 2 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
ادھر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی صوبہ مرکزی میں ہونے والی تازہ بمباری کے نتیجے میں 5 افراد شہید جب کہ 7 زخمی ہو گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے دوران شہدا کی تعداد 1500 سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ 18 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں لبنان میں بھی بھاری جانی نقصان ہوا ہے جہاں اب تک 850 شہری شہید ہو چکے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ خطے میں ایران کے خلاف امریکی فوجی اڈوں کا استعمال بند ہونا چاہیے کیونکہ اس کا مقصد ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا ہے، انھوں نے بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے فرانسیسی صدر سے گفتگو بھی کی ہے۔
ایران کے نائب وزیرخارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ایران جب تک ضرورت ہو لڑنے کے لیے تیار ہے، ایران فی الحال سفارتی حل پر توجہ نہیں دے رہا ہے اور اگر امریکا نے ایران میں زمین فوج اتاری تو اسے ایک اور ویت نام کا سامنا ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذرا پڑھیں کہ ویت نام میں کیا ہوا تھا۔












