ایران کی گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ

ماہرین کے مطابق کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور عالمی مہنگائی کا خدشہ ہے۔
اپ ڈیٹ 19 مارچ 2026 12:45pm
تصویر (اے ایف پی، الجزیرہ)
تصویر (اے ایف پی، الجزیرہ)

اسرائیل کے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت $108.66 اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ $98.65 فی بیرل تک پہنچ گئی، ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک قیمتیں بلند رہیں تو عالمی مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔

اسرائیل کے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد عالمی تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

قطرکے خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق برینٹ کروڈ، عالمی معیار کے مطابق، بدھ کو 5 فیصد بڑھ کر $108.66 فی بیرل ہو گیا، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ $98.65 تک پہنچا اور برینٹ کے مقابلے میں اس کی رعایت سب سے زیادہ ہو گئی جو مئی 2019 کے بعد کا ریکارڈ ہے۔

9 مارچ کو برینٹ کروڈ تیل کی قیمت تقریباً $120 تک جا پہنچی تھی اور 13 مارچ کے بعد سے $100 سے نیچے نہیں گئی۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ جنوبی پارس کے آف شور گیس فیلڈ سے متعلق توانائی کے مراکز پر حملہ کیا گیا، جو دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے اور ایران کے بوشہر صوبے کے ساحل کے نزدیک واقع ہے۔

اس کے فوراً بعد ایران کی پاسداران انقلاب نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تیل و گیس کے مراکز پر حملے کی دھمکی دی، جس سے خطے میں توانائی کی فراہمی کے مزید تعطل کا خطرہ پیدا ہوا۔

بدھ کو قطر کی حکام نے راس لفان گیس فیسلٹی میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے بعد آگ لگنے کی اطلاع دی، قطری حکام کے مطابق راس الفان گیس کمپلیکس پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں گیس فیلڈ کے تین مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔

حکام نے بتایا کہ حملے سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا تاہم بعد ازاں راس الفان گیس فیلڈ میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا۔

اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں اور ایران کی خلیجی پڑوسیوں پر جوابی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی برآمدات کو شدید متاثر کیا اور پیداوار کو روک دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تعطل طویل عرصے تک جاری رہا تو عالمی معیشت میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، ہرمز کے راستے کے ذریعے ہونے والی شپمنٹس بھی رکی ہوئی ہیں، جو عالمی تیل اور ایل این جی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کل تیل کی پیداوار میں 7 سے 10 ملین بیرل فی دن یا عالمی طلب کے 7 سے 10 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

جوابی اقدامات کے طور پر ٹرمپ انتظامیہ نے جونز ایکٹ شپنگ قانون میں 60 روزہ رعایت کا اعلان کیا، جس کے تحت غیر ملکی پرچم والے جہاز امریکا کے بندرگاہوں کے درمیان ایندھن، کھاد اور دیگر اشیاء منتقل کر سکیں گے۔

اسی کے ساتھ امریکا نے وینزویلا کی ریاستی آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے ساتھ مخصوص معاہدوں کی اجازت دینے والی عمومی لائسنس بھی جاری کیا۔

عراق میں نارتھ آئل کمپنی کے ذرائع کے مطابق بغداد اور کردستان ریجنل گورنمنٹ کے درمیان معاہدے کے بعد پائپ لائن کے ذریعے برآمدات دوبارہ شروع ہو گئی ہیں اور عراق کم از کم 100,000 بیرل فی دن کی برآمدات کے لیے بندرگاہ استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔