مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے: فیلڈ مارشل

افغان طالبان پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کو روکیں، فیلڈ مارشل
شائع 19 مارچ 2026 01:41pm

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک میں مذہبی جذبات کو تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ علماء کا کردار قومی اتحاد کو مضبوط بنانے اور انتہاپسندی کے خاتمے میں نہایت اہم ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے راولپنڈی میں اہلِ تشیع علماء کرام سے اہم ملاقات میں اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ملاقات کے دوران قومی سلامتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر علماء کرام نے مذہب کے نام پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاستی اداروں کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ میں علماء کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ علماء معاشرے میں ہم آہنگی اور اعتدال پسندی کو فروغ دینے میں اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے غلط معلومات، فرقہ وارانہ بیانیوں اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی تخریبی سرگرمیوں کے تدارک کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ افغان طالبان پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کو روکیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے نیٹ ورکس جہاں بھی موجود ہوں گے، انہیں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ختم کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے فعال سفارتکاری جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کا کردار قومی اتحاد کو مضبوط بنانے اور انتہاپسندی کے خاتمے میں نہایت اہم ہے۔