ایران جوہری پروگرام بحال نہیں کر رہا تھا، امریکی انٹیلی جنس حکام کا بڑا انکشاف

ایرانی حکومت موجود ہے لیکن حالیہ حملوں کے باعث بڑی حد تک کمزور ہو چکی ہے: تلسی گبارڈ
شائع 19 مارچ 2026 04:18pm

امریکی انٹیلی جنس حکام نے کہا ہے کہ ایران گزشتہ سال کے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت دوبارہ بحال نہیں کر رہا تھا۔

چینی میڈیا کے مطابق امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے سالانہ اجلاس کے دوران بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے اندازے کے مطابق فوجی دباؤ کے باوجود ایران کی حکومت تاحال برقرار ہے لیکن حالیہ حملوں کے باعث بڑی حد تک کمزور ہو چکی ہے اور اس کی عسکری اور قیادی صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔

تلسی گبارڈ نے کہا کہ گزشتہ سال جون میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کا جوہری افزودگی پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا اور اس کے بعد اسے دوبارہ بحال کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ بیان کے مطابق زیرِ زمین تنصیبات کے داخلی راستوں کو بمباری کے بعد سیمنٹ سے بند کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کمیٹی کے سامنے زبانی بیان دیتے ہوئے اپنے تحریری نکات کا یہ حصہ شامل نہیں کیا، جس پر سینیٹر مارک وارنر نے سوال اٹھایا جب کہ تلسی گبارڈ نے وضاحت دی کہ وقت کی کمی کے باعث کچھ حصے چھوڑ دیے گئے۔

امریکی انٹیلی جنس حکام کے مطابق ایران آئندہ 10 سال سے کم عرصے میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے کیوں کہ اس نے ماضی میں خلائی لانچ اور دیگر ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا ہے۔

تلسی گبارڈ نے مزید کہا کہ جاری امریکی حملوں کے مکمل اثرات سامنے آنے کے بعد ان اندازوں کو مزید اپڈیٹ کیا جائے گا جب کہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت برقرار رہی تو وہ مستقبل میں اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے، جس کے باعث عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور سمندری تجارت پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔