ایک پردیسی کی عید: جب کمپنی نے اچانک ایک ماہ کی چُھٹیاں اور ٹکٹ دیا، ویڈیو کالز سے گلے ملنے تک کا سفر

اوورسیز پاکستانیوں کی عید: پردیس میں رہنے والوں کے دل اپنے وطن میں دھڑکتے ہیں
شائع 22 مارچ 2026 06:33pm

پردیس میں عید محض تہوار نہیں بلکہ اپنوں کی یاد، وطن کی تڑپ اور تنہائی کا گہرا احساس بن جاتی ہے۔ اپنے کمرے میں بیٹھا انسان دیارِ غیر کی خاموشی میں گھر کی رونق، بچپن کی گلیاں، دوست اور ماں کی محبت کو شدت سے یاد کرتا ہے۔ عید کے دن جب گھروالے ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں اس وقت اوورسیز پاکستانی اکثر ویڈیوکالز پر اپنے پیاروں کو دیکھ کر کبھی خوشی کا اظہار کرتے ہیں تو کبھی آنکھیں بھیک جاتی ہیں۔

کبھی ماں کا چہرہ دیکھ کر سینے سے لگنے کو دل چاہتا ہوگا تو کبھی بہن کی مسکراہٹ پر پیار آتا ہوگا، اور کبھی بیوی کی آنکھیں گویا شکوہ کر رہی ہوتی ہوں گی کہ عید پر بھی نہیں آئے نا آپ اور کبھی بچوں کو تیار دیکھ کر دل تڑپ اٹھتا ہوگا۔ سچ ہے ہر چیز کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور یہ خوشحالی بھی عجیب خراج مانگتی ہے۔

دنیا بھر میں لاکھوں اوورسیز پاکستانی اور دیگر تارکین وطن بہتر مستقبل، بہترین روزگار اور اپنے خاندان کی خوشحالی کے لیے اپنے وطن سے دور زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے لیے عید ایک طرف خوشی کا دن ہوتا ہے، مگر دوسری طرف اپنے پیاروں سے دوری کا احساس بھی شدت سے اپنا اثر دکھاتا ہے۔

پردیسیوں اور اپنے وطن میں ان کے اہلِ خانہ کو فون کالز، ویڈیو کالز، پیغامات اور تصویریں وقتی تسلی تو دے دیتی ہیں، مگر وہ کمی پوری نہیں کر سکتیں جو حقیقی موجودگی میں محسوس ہوتی ہے۔ جو عید پر گلے لگ کر ہوتی ہے اور عید تو ہے ہی سینے سے لگنے اور گلے ملنے کا تہوار۔

سینیگال سے تعلق رکھنے والی مریم ابوظہبی میں مقیم ہیں اور عید کے حوالے سے اپنی کیفیات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کے ملک میں عید پورے خاندان کے افراد کو دادی کے گھر اکٹھے ہونے اور ایک جشن اورایک بڑی تقریبات کا نام ہے۔ لیکن پردیس میں ایسا ممکن نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ابتدا میں عید جیسے تہوار کے دن ان کے لیے بہت مشکل تھے اور شروع میں وہ عید پر بہت اداس ہو جاتی وہ تھیں، مگر وقت کے ساتھ انہوں نے اپنے دوستوں کو ہی اپنا خاندان بنا لیا۔ اب وہ دوستوں کے ساتھ مل کر کھانا اور نئی ڈشز بناتی ہیں، تیار ہوتی ہیں اور یوں اپنوں سے دوری کے احساس کو کم کرتی ہیں۔

تہوار کے موقعے انسان کو بڑا جذباتی کر دیتے ہیں، اور ایسے موقعوں پر ہر پردیسی اپنے گھر والوں کے ساتھ عید منانا چاہتا ہے، لیکن بہت ساری مجبوریاں پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہیں اور پھردل کو ایک خاموش اداسی گھیرلیتی ہے، لیکن جناب ایسے میں اگر اچانک گھر جانے کی خوشی مل جائے تو سوچیں زرا خوشی کا عالم کیا ہوگا؟ یقیناً وہ خوشی دیدنی ہوگی۔

ایسا ہی ایک اقدام پچھلے سال متحدہ عرب امارات میں ”ذریعہ انّیشیئیٹِو“ کے تحت کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ نذیر حسین نے لگاتار چھ (6)عیدیں اپنے خاندان سے دور گزاری تھیں۔ جب ٹیلی سلوشنز اور سٹی ون ٹورز کے اقدام سے ’ذریعه انیشیئیٹو‘ کی طرف سے ایک مفت ٹکٹ انہیں دیا گیا تھا تو ان کا کہنا ہے کہ ”میں اس وقت تک یقین نہیں کر پارہا تھا جب تک میں جہازمیں سوار نہیں ہوا تھا۔“

انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عجیب یقین اور بے یقینی کے درمیان تھا خوشی سے دل دھڑک رہا تھا۔ اور جب میں نے گھر والوں کو اپنی غیر متوقع آمد کا بتایا تو وہ حیران رہ گئے۔ میرے 14 سالہ اور 7 سالہ بیٹوں نے جب مجھے دیکھا تو وہ میری جانب تیزی سے بھاگے اور مجھے گلے لگا لیا۔ یہ ناقابل یقین حد تک جذباتی تھا۔ انہوں نے پورا ماہ اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارا۔

ان تمام حقیقی کہانیوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پردیس کی عید صرف خوشیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ جذبات، قربانی اور یادوں کا ایک ملا جلا احساس ہے۔ ایک طرف بہتر مستقبل کی جدوجہد ہے، تو دوسری طرف اپنوں کی کمی جو خوشی کے ساتھ کچھ اداسی بھی لے کے آتی ہے۔