جِن بوتل سے باہر آگیا، ٹرمپ نے ایران سے جنگ کا اصل مقصد بتا دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کی اہم ترین جزیرے اور تجارتی بندرگاہ ’خارگ‘ پر کنٹرول حاصل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران کی تیل کی نوے فیصد سے زائد برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
ٹرمپ نے ’فنانشل ٹائمز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’سچ تو یہ ہے میری سب سے پسندیدہ خواہش ایران کا تیل حاصل کرنا ہے لیکن امریکا میں کچھ نادان لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ میرا جواب یہ ہے کہ وہ بے وقوف لوگ ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے حوالے سے ان کی مستقبل کی حکمتِ عملی کی اب تک کی سب سے واضح عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل جب ان سے وینزویلا کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے کہا تھا کہ لوگ ایسا سوچتے ہیں۔ تاہم، بعد میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرکے امریکا لانے کے بعد انہوں نے وینزویلا کے تیل پر قبضے کا اعلان کیا۔
اب ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس بہت سے راستے کھلے ہیں، شاید ہم خارگ آئی لینڈ پر قبضہ کر لیں اور شاید نہ کریں، لیکن اگر ہم وہاں گئے تو ہمیں کچھ وقت کے لیے وہاں قیام کرنا پڑے گا۔‘
جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور پیر کے روز امریکی خام تیل کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔
اس دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ہزاروں مزید فوجی بھی روانہ کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ یہ تاثر بھی دے رہی ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے پندرہ نکاتی امن منصوبے پر مذاکرات کر رہی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اس بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا کہ آیا آنے والے دنوں میں کوئی جنگ بندی ہو سکے گی یا نہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا کی بیس فیصد تیل کی تجارت متاثر ہو رہی ہے جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم اب تک ایران میں تیرہ ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں اور ابھی ہمارے پاس مزید تین ہزار اہداف باقی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک معاہدہ جلد ہی طے پا سکتا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے فوجی کارروائی جاری رکھنے کا اشارہ بھی دیا۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا خارگ آئی لینڈ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لیے اسے بڑے پیمانے پر زمینی فوج اتارنی پڑے گی جس جنگ کے دائرہ کار میں مزید اضافے اور امریکا کے لیے بڑے جانی نقصان کا باعث بنے گی۔















