مہنگا تیل نہیں، کمزور معاشی ڈھانچہ اصل مسئلہ

.
شائع 07 اپريل 2026 10:52am

توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے پاکستان کی کمزوری کوئی بیرونی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ان ساختی انتخابات کا نتیجہ ہے جو ہم نے توانائی کی پیداوار، برآمدات اور استعمال کے حوالے سے کیے ہیں۔ ایران تنازع کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ایک بیرونی جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، مگر پاکستان کے لیے یہ کچھ اور ہے، یہ ایک امتحان ہے۔ یہ عالمی منڈیوں کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کا امتحان ہے۔

تیل درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے نتائج فوری ہوتے ہیں: درآمدی بل میں اضافہ، مہنگائی میں اضافہ اور کرنسی پر دباؤ۔ لیکن پاکستان کے لیے اصل مسئلہ خود جھٹکا نہیں بلکہ اس کے مقابل ہماری کمزوری ہے۔ ہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار جنگ کو ٹھہرا سکتے ہیں، مگر اپنی تیل پر انحصار کا ذمہ دار کسی اور کو نہیں ٹھہرا سکتے۔

پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80 سے 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے لیے انتہائی حساس ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر اضافہ سالانہ درآمدی بل میں تقریباً 2 سے 2.5 ارب ڈالر کا اضافہ کرتا ہے، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ مزید خراب ہوتا ہے اور روپے پر دباؤ بڑھتا ہے۔

یہ کمزوری نئی نہیں بلکہ برسوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ توانائی کو کم قیمت پر فراہم کیا گیا، گیس کی غلط تقسیم کی گئی، اور متبادل ذرائع کے باوجود تنوع میں تاخیر کی گئی۔ پاکستان کا توانائی کا نظام اب بھی درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے، حالانکہ شمسی توانائی کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے اور پن بجلی کے منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔

اس بار فرق یہ ہے کہ یہ جھٹکا واضح نظر آ رہا ہے۔ توانائی کے اخراجات کو سبسڈی یا گردشی قرض میں چھپانے کے بجائے صارفین تک منتقل کیا جا رہا ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کا حصہ ہے۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، مگر اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی توانائی لاگت صرف درآمدات کو متاثر نہیں کرتی بلکہ برآمدات کو بھی کمزور کرتی ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے اور پاکستانی برآمدات کم مسابقتی ہو جاتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی طلب کمزور ہو۔

پاکستان کی برآمدات کا تقریباً 55 سے 60 فیصد ٹیکسٹائل پر مشتمل ہے، مگر اس کا بڑا حصہ کم ویلیو مصنوعات جیسے سوت، گرے کلاتھ اور بنیادی ملبوسات پر مشتمل ہے۔ یہ وہ مصنوعات ہیں جن میں قیمت بڑھانے کی گنجائش کم ہوتی ہے اور خریدار معمولی قیمت کے فرق پر سپلائر تبدیل کر لیتے ہیں۔

پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ تیل مہنگا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم دنیا کو جو فروخت کرتے ہیں وہ زیادہ تر کم قیمت کا ہے۔ اس کے برعکس اٹلی اعلیٰ معیار کے ٹیکسٹائل اور فیشن مصنوعات برآمد کرتا ہے، جرمنی اور جاپان اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات، جبکہ بھارت آئی ٹی سروسز برآمد کرتا ہے، جو توانائی پر کم انحصار کرتی ہیں۔

جو ممالک آئیڈیاز، برانڈز اور ٹیکنالوجی برآمد کرتے ہیں وہ تیل کے جھٹکوں سے محفوظ رہتے ہیں، جبکہ خام یا کم ویلیو مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس بحران کو صرف تیل کا مسئلہ نہیں بلکہ معیشت کی ساخت کا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔

اس صورتحال میں ایک موقع بھی موجود ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہیں اور ایک زیادہ مؤثر توانائی معیشت کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔

اب ضروری ہے کہ توانائی کو سیاست کے بجائے پیداوار کے لیے مختص کیا جائے، گیس کو برآمدی صنعت کو ترجیح دی جائے، اور قابل تجدید توانائی جیسے شمسی اور ہوا کے منصوبوں کو تیز کیا جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ برآمدی حکمت عملی کو بدلنا ہوگا۔ جب تک پاکستان قیمت پر مقابلہ کرتا رہے گا، ہر عالمی جھٹکا اندرونی بحران میں تبدیل ہوتا رہے گا۔ ویلیو چین میں اوپر جانا اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔

پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے، جو قابلِ تعریف ہے، مگر بیرونی بحران ہمیں اندرونی مسائل کی یاد بھی دلاتے ہیں۔ حقیقی طاقت اسی وقت آتی ہے جب معیشت مضبوط ہو۔

اس بحران کا سبق صرف توانائی تک محدود نہیں۔ پاکستان کو صرف توانائی کی سلامتی نہیں بلکہ معاشی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ کوئی ملک اس وقت محفوظ نہیں بنتا جب وہ توانائی کی حقیقی قیمت تسلیم کرے، بلکہ اس وقت بنتا ہے جب وہ ایسی معیشت تعمیر کرے جو ان قیمتوں کو برداشت کر سکے۔

نوٹ: یہ تحریر 6 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔