ایران امریکا جنگ بندی کے اثرات: پاکستان میں سونا آج کتنا مہنگا فروخت ہونے والا ہے؟

بدھ کے روز عالمی منڈی میں سونا تقریباً دو اعشاریہ تین فیصد اضافے کے ساتھ 4812 ڈالرز فی اونس تک جا پہنچا ہے۔
شائع 08 اپريل 2026 10:42am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے روکنے کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

بدھ کے روز عالمی منڈی میں سونا تقریباً دو اعشاریہ تین فیصد اضافے کے ساتھ 4812 ڈالرز فی اونس تک جا پہنچا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کے اعلان سے تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے لیکن عالمی سرمایہ کار اب بھی مستقبل کے خطرات کو بھانپتے ہوئے اپنی رقم محفوظ کرنے کے لیے سونے کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

رواں سال 28 فروری کو ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک سونے کی قیمتوں میں مجموعی طور پر آٹھ فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی تھی، لیکن اب حالیہ سفارتی پیش رفت نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا ہے۔

پاکستان، جو اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اس کی درخواست پر ہی صدر ٹرمپ نے حملوں میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔

اس صورتحال کے تناظر میں اگر آج پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا اندازہ لگایا جائے تو گزشتہ روز یعنی سات اپریل کو سونا تین ہزار روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 88 ہزار 462 روپے فی تولہ پر بند ہوا تھا، لیکن آج عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے باعث پاکستان میں بھی سونے کی قیمت میں تین سے چار ہزار روپے تک کا اضافہ متوقع ہے۔

اس حساب سے آج پاکستان میں فی تولہ سونا 4 لاکھ 91 ہزار سے 4 لاکھ 93 ہزار روپے کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

معاشی تجزیہ کار تائی وونگ کے مطابق مارکیٹ اس وقت یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا ایران معاہدے کی شرائط پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ اگر کشیدگی مکمل ختم نہیں ہوتی تو سونے کی قیمت مزید اوپر جا سکتی ہے۔

عام آدمی کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی معمولی سی تبدیلی بھی ان کی جیب پر اثر انداز ہوتی ہے۔

سونا اس وقت ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔

اب تمام نظریں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور امریکی مرکزی بینک کے فیصلوں پر جمی ہیں جو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کی سمت متعین کریں گے۔