ایران امریکا مذاکرات پر ری پبلیکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان تقسیم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، کچھ رہنماؤں نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا ہے جب کہ دیگر اسے محض عارضی وقفہ قرار دے رہے ہیں۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادیوں نے ممکنہ معاہدے پر شکوک کا اظہار کیا ہے جب کہ ڈیموکریٹس نے جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے احتساب کا مطالبہ دہرایا ہے۔
ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور کانگریس میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف رکھنے والے ری پبلکن سینیٹر لِنڈسے گراہم نے سفارت کاری کی حمایت کرتے ہوئے مذاکراتی کوششوں کو سراہا، تاہم جنگ بندی معاہدے سے متعلق رپورٹس پر انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران حتمی معاہدے کے بہت قریب ہیں اور تہران کی جانب سے پیش کیا گیا دس نکاتی منصوبہ مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس منصوبے میں پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رکھنے اور یورینیم افزودگی کی اجازت جیسے نکات شامل ہیں۔
لِنڈسے گراہم نے کہا کہ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز پر حملہ کیا، جس سے عالمی بحری آمد و رفت متاثر ہوئی، لہٰذا اسے اب کوئی فائدہ نہیں ملنا چاہیے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ اور افزودہ یورینیم کی ملک سے باہر منتقلی شامل ہونی چاہیے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹ سینیٹر روبن گالیگو نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا خاتمہ مثبت پیش رفت ہے، اس سے امریکی فوجیوں کی جانیں محفوظ ہوں گی۔
تاہم انہوں نے جنگ کے آغاز، اس کی قانونی حیثیت اور ٹرمپ انتظامیہ کے احتساب کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کچھ ری پبلکن حامیوں اور تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ جنگ بندی محض عارضی ہے۔
ٹرمپ کی حامی کارکن لورا لومر نے پیش گوئی کی کہ یہ معاہدہ ناکام ہو جائے گا اور اسے امریکا کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ اسی طرح مبصر مارک لیون نے کہا کہ جنگ ختم نہیں ہوئی اور ایران کو دشمن کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے خبردار کیا کہ اگر ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول ملتا ہے تو یہ اس کے لیے تاریخی کامیابی ہوگی. انہوں نے اس صورت حال کو امریکی نااہلی قرار دیا۔
دیگر ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی ٹرمپ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ سینیٹر ایڈ مارکی نے کہا کہ امریکا کو اس غیر قانونی جنگ میں شامل ہی نہیں ہونا چاہیے تھا اور کانگریس کو فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے جنگ مکمل طور پر روکنی چاہیے۔
ترقی پسند رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے جنگ بندی کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر نے کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ چھیڑ کر آئین کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ڈان نے بھی مطالبہ کیا کہ کانگریس فوری تحقیقات شروع کرے کہ جنگ کیسے شروع ہوئی، کس نے اس کی منظوری دی اور شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے۔ بیان کے مطابق، یہ جنگ بندی کسی نئی شروعات کا موقع نہیں بلکہ احتساب کا آغاز ہونا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کے ایسٹر کے دن دیے گئے بیان میں ایران کے صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی نے ری پبلکن ووٹرز میں ناراضگی پیدا کی ہے، ووٹرز نے اس عمل کو صدر کی جانب سے ’’ریڈ لائن‘‘ کراس کرنا قرار دیا ہے۔
تاہم پارٹی اراکین اس جنگ بندی کو امریکا کی جانب سے طاقت اور دباؤ کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی حکمت عملی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کردی ہے، جس کے بعد اب دونوں ممالک کے وفود جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کریں گے۔












