جنگ بندی، مذاکرات اور اسلام آباد کا کردار
مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی حالیہ جنگ عین اس مرحلے پر رکی جب چند گھنٹوں میں صورتِ حال مزید بگڑ سکتی تھی۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے اور دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان نے فوری تباہی کا خطرہ تو ٹال دیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقی امن کی شروعات ہے یا صرف ایک وقتی وقفہ؟ اسلام آباد میں شروع ہونے والے ایران، امریکا مذاکرات اسی نازک پس منظر میں ایک بڑے سفارتی امتحان کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
حالیہ جنگ نے نہ صرف ایران، امریکا اور اسرائیل کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ایسے میں پاکستان، مصر، ترکی، چین اور روس کی مشترکہ سفارت کاری کے نتیجے میں دو ہفتوں کی جنگ بندی ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی۔ یہ پیش رفت بظاہر فوری تباہی کو روکنے میں کامیاب رہی، مگر اس کے اندر کئی پیچیدہ سوالات بھی پوشیدہ ہیں۔
پاکستان نے اس سارے عمل میں ایک متحرک کردار ادا کیا۔ ایک طرف اس نے امریکا کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تو دوسری جانب ایران اور خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی کو کم کرنے کی بھی سعی کی۔
اسلام آباد کے لیے یہ محض سفارت کاری نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بھی تھی، کیوں کہ جنگ کے پھیلاؤ کی صورت میں اس کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچ سکتے تھے۔
تاہم، اس جنگ بندی کی حقیقت اتنی سادہ نہیں۔ ایران اب بھی امریکا پر مکمل اعتماد کرنے کو تیار نہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملے اس پورے عمل پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ امریکا کا یہ مؤقف کہ لبنان حملے سیز فائر میں شامل نہیں، دراصل جنگ بندی کی ایک محدود اور مفاداتی تشریح ہے، جو امن کے تصور کو کمزور کرتی ہے۔
یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو مذاکراتی عمل کو نازک بنا رہا ہے۔ ایک طرف میز پر بات چیت جاری ہے، دوسری طرف میدان میں کارروائیاں رک نہیں رہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں یہ حکمتِ عملی نئی نہیں، مگر اس کا سب سے بڑا نقصان اعتماد کے فقدان کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
ایران کی حکمت عملی بھی محتاط ہے۔ وہ ایک طرف مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے، مگر دوسری طرف واضح طور پر یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ وہ بغیر ضمانت کے کسی بھی معاہدے پر آنکھ بند کر کے اعتبار نہیں کرے گا۔ یہ عدم اعتماد دراصل ماضی کے تجربات اور موجودہ زمینی حقائق کا نتیجہ ہے۔
ادھر اسرائیل کو بھی اس جنگ میں داخلی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ اس کی قیادت امریکا سے مکمل حمایت نہ ملنے پر نالاں دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتِ حال امریکی قیادت پر بھی دباؤ بڑھا رہی ہے، جہاں داخلی تنقید اور عالمی ذمہ داریوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔
ان تمام عوامل کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ یہ محض دو ممالک کے درمیان بات چیت نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا معاملہ ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ خود کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر منوائے، مگر اس کے لیے اسے نہایت باریک توازن قائم رکھنا ہوگا۔
اصل چیلنج یہی ہے کہ کیا یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے؟ اس کا جواب اس بات میں پوشیدہ ہے کہ آیا فریقین دو بنیادی نکات پر اتفاق کر سکتے ہیں یا نہیں، اول، مسائل کا حل جنگ کے بجائے مذاکرات سے نکالا جائے۔ دوم، مذاکرات کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھا جائے اور الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ علاقائی تنازعات فوری حل نہیں ہوتے۔ ان کے لیے طویل المدتی حکمت عملی، مستقل مزاجی اور باہمی اعتماد درکار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ توقع رکھنا کہ دو ہفتوں میں کوئی بڑا حل نکل آئے گا، شاید حقیقت پسندانہ نہ ہو۔
اگر مذاکراتی عمل کے ذریعے کشیدگی کم ہوتی ہے اور بات چیت کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو یہ خود ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات دراصل ایک طویل سفارتی عمل کا آغاز ہیں، اختتام نہیں۔ اگر فریقین نے اس موقع کو سنجیدگی سے استعمال کیا تو یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ محض ایک وقفہ ثابت ہوگا، جس کے بعد کشیدگی پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آ سکتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

















