ایران نے اسلام آباد میں امریکا سے مذاکرات کے لیے جے ڈی وینس کا انتخاب کیوں کیا؟

ایران کو امریکی نائب صدر سے بڑی توقعات وابستہ، کیا یہ ملاقات مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ کھول پائے گی؟
شائع 11 اپريل 2026 10:18am

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت کی خواہش تھی مذاکرات کی سربراہی جے ڈی وینس کے سپرد کی جائے۔

ایرانی حکام جے ڈی وینس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں سب سے زیادہ جنگ مخالف شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں، اور یہی تاثر اس اہم ملاقات سے قبل ایرانی توقعات کو بڑھا رہا ہے۔

تہران کو یقین ہے کہ جے ڈی وینس وہ واحد شخصیت ہیں جو نیک نیتی کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اگرچہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ وہ دیگر امریکی نمائندوں کے مقابلے میں کوئی نرم رویہ اختیار کریں گے۔

اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں جنگ کے آغاز کے بعد دونوں فریقین پہپلےی بار آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ واشنگٹن اور تہران دونوں پر اس مہنگے اور سیاسی طور پر حساس تنازع سے نکلنے کا دباؤ ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے رائٹرز سے گفتگو میں واضح کیا کہ جے ڈی وینس کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ صرف صدر ٹرمپ کا ہے اور کسی بھی حتمی معاہدے کا فیصلہ بھی صدر خود کریں گے، تاہم جے ڈی وینس کی موجودگی مذاکرات کے رخ کا تعین کر سکتی ہے۔

روانگی سے قبل جے ڈی وینس نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم یقیناً دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لیے تیار ہیں، لیکن کسی بھی پیش رفت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ایران کتنی نیک نیتی سے مذاکرات کرتا ہے۔

ان مذاکرات کے نتائج دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ بات چیت اُس جنگ سے نکلنے کا ایک موقع ہے جس پر امریکا کے اندر انتخابات سے قبل تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ ایران کے لیے یہ معاشی اور فوجی دباؤ کم کرنے کا راستہ ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی جے ڈی وینس کے اپنے سیاسی مستقبل پر بھی اثر انداز ہوگی کیونکہ انہیں مستقبل میں صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وینس کے ساتھ اس وفد میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں، تاہم ایرانی حکام ان دونوں کے حوالے سے اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

دوسری جانب ایران کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، اور قالیباف ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے جے ڈی وینس کی شمولیت کی حمایت کی تھی۔

ان تمام کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

واشنگٹن نے ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کو مسترد کر دیا ہے جبکہ تہران نے اپنے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

ان مشکل حالات میں جے ڈی وینس ایک ایسی سفارتی کوشش کا حصہ بننے جا رہے ہیں جسے ماہرین یا تو ایک سنہرا موقع قرار دے رہے ہیں یا پھر ایک بڑا سیاسی جوا۔